سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں تہران میں ایرانی حکام اور مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا۔
سعودی میڈیا کے مطابق قطر اور پاکستان کی جانب سے ثالثی اور امن کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کو سپورٹ کرنے کا اعادہ کیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی، فضائی دفاعی نظام کی صلاحیتوں اور حوثیوں کے بار بار حملوں کو روکنے میں کامیابی کو سراہا گیا۔
سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ طائف پر حوثیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کردیا۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق سعودی دار الحکومت ریاض میں حوثی میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ایک عمارت، تعمیراتی سائٹ اور گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔
سعودی شہروں جدہ اور ینبع میں جاری کی گئی ممکنہ حملے کی وارننگ کچھ دیر بعد واپس لے لی گئی۔
سعودی شہری دفاع نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے، میزائلوں یا ڈرونز کو روکنے کے واقعات اور ان کے ممکنہ گرنے کے مقامات کی ویڈیوز بنانے یا پھیلانے پر قانونی کارروائی کا انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
حکام نے غیر مصدقہ ویڈیوز اور افواہیں پھیلانے سے گریز کی ہدایت بھی کی ہے۔




