ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ختم ہوچکے ہیں ناکام کہنے کی۔ میری ہمت نہیں جس تیزی سے حالت گزر رھے ہیں کچھ بھی تیزی سے ہوسکتا جاۓ ہماری امیدیں تو یہ ہی ہیں پاکستان ایک بار پھر ان حریفوں کو۔ سمجھآنے اور ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوجائے ۔ میں نے اس جنگ کے حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی تھی کیونکہ دونوں جانب کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات اور احساسات موجود ہیں مگر ایران کے بھاری بہڑکم۔ وفد کی پاکستان آمد پر میرے دل میں ایران اور فارسی سے دیرینہ محبت جاگ اٹھی جنگی معاملات پر اپنی رائے دینے کے بجائے پندھرہ سال قبل اپنے ایک مضمون کو۔ مکرر پیش کرتا ہوں ۔ شاید یہ ہی۔ میرے دل۔ کی آواز ہے
اب اس بات سے قطعہ نظر کے میں ہرگز اس شعر کے حوالے سے اس قابل نہیں ہوں اور یہ سب دوستوں کی محبت اور عنایت ہے مجھے فارسی کے اس شعر کے ساتھ ہی اردو زبان کی اس شیرینی اور لطافت کا خیال آتا ہے جو فارسی عربی اور ترکی زبان کی آمیزش کے ساتھ ایک نئی زبان کی حیثیت سے سامنے آئی تھی۔ فارسی زبان کو ام الا اردو یعنی اردو کی ماں بھی کہا جاتا ہے یہ فارسی داں حکمراں ہی تھے جو نو سو سال قبل ہندوستان میں داخل ہوئے اور حیح یا لحاظ یہاں کی اکثریتی آبادی کو اپنے جاہ جلال طرز حکومت انصاف اور شاید وسیع القلمی کے ذریعے اپنا ہمنوا بنالیا۔ فارسی زبان ایک میٹھی اور شگفتہ زبان تھی ہندوستان میں سنسکرت زبان کو طبقوں میں بانٹ دیا گیا تھا برہمن سماج ایک قسم کی زبان بولتا تھا اور شودر اور محکوم طبقہ بازاری سنسکرت استعمال کرتا تھا ایسے میں فارسی جیسی شیریں زبان نے سنسکرت پر اپنا اثر ڈالنا شروع کر دیا اس زمانے کے حوالے سے ایک لطیفہ خاصا مشہور ہے کہ ایک مغل فوجی گھڑ سوار نے ایک جگہ ایک شخص کو بازار میں کوئی چیز تھتے ہوئے دیکھا اس نے فارسی میں دریافت کیا این چیست بازار میں بیٹھے شخص نے کہا کوریٹ چه مه گوئی اس ہندی شخص نے کہا تیل میں ڈبوئی پھر گھر سوار بولا بازار میں بیٹھا شخص بولا پیسے دو اس لطیفے سے اس دور میں دونوں زبانوں کے ایک










Post your comments