زبان یار من ۔۔۔ فارسی. تحریر ظفر محمد خان

ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ختم ہوچکے ہیں ناکام کہنے کی۔ میری ہمت نہیں جس تیزی سے حالت گزر رھے ہیں کچھ بھی تیزی سے ہوسکتا جاۓ ہماری امیدیں تو یہ ہی ہیں پاکستان ایک بار پھر ان حریفوں کو۔ سمجھآنے اور ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوجائے ۔ میں نے اس جنگ کے حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی تھی کیونکہ دونوں جانب کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات اور احساسات موجود ہیں مگر ایران کے بھاری بہڑکم۔ وفد کی پاکستان آمد پر میرے دل میں ایران اور فارسی سے دیرینہ محبت جاگ اٹھی جنگی معاملات پر اپنی رائے دینے کے بجائے پندھرہ سال قبل اپنے ایک مضمون کو۔ مکرر پیش کرتا ہوں ۔ شاید یہ ہی۔ میرے دل۔ کی آواز ہے

زبان یار من کند هم جنس، با هم جنس پرواز

. کبوتر یا کبوتر ، باز با باز
 یہ وہ تہنیتی شعر ہے جو نوائے پاکستان کی ایک  شاعت میں میرے حوالے سے شائع کیا گیا۔ میری اپنی قاری شناسی خاصی محدود ہے تاہم جب بہت سارے دوستوں اور احباب کے خیر مقدمی فون آئے تو ان میں سے اکثر نے اس کے معنی دریافت کئے جو میری سمجھ میں آیا وہ میں نے بتا دیا۔ شاید اس کا کچھ مطلب یہ ہے کہ ایک جیسی فطرت اور خیالات رکھنے والے افراد باہم مل بیٹھے ہیں گویا اس طرح جیسے کہ پرندے اور غیر پرندے میں فرق ہوتا ہے۔ پرندے کی پرواز بلند ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ میرے ذہن میں تو اس کا مرکزی خیال ایک مصرے میں ہی یوں بتایا جا سکتا ہے آملے ہیں سینہ چاکان  سے سینہ چاک

 اب اس بات سے قطعہ نظر کے میں ہرگز اس شعر کے حوالے سے اس قابل نہیں ہوں اور یہ سب دوستوں کی محبت اور عنایت ہے مجھے فارسی کے اس شعر کے ساتھ ہی اردو زبان کی اس شیرینی اور لطافت کا خیال آتا ہے جو فارسی عربی اور ترکی زبان کی آمیزش کے ساتھ ایک نئی زبان کی حیثیت سے سامنے آئی تھی۔ فارسی زبان کو ام الا اردو یعنی اردو کی ماں بھی کہا جاتا ہے یہ فارسی داں حکمراں ہی تھے جو نو سو سال قبل ہندوستان میں داخل ہوئے اور حیح یا لحاظ یہاں کی اکثریتی آبادی کو اپنے جاہ جلال طرز حکومت انصاف اور شاید وسیع القلمی کے ذریعے اپنا ہمنوا بنالیا۔ فارسی زبان ایک میٹھی اور شگفتہ زبان تھی ہندوستان میں سنسکرت زبان کو طبقوں میں بانٹ دیا گیا تھا برہمن سماج ایک قسم کی زبان بولتا تھا اور شودر اور محکوم طبقہ بازاری سنسکرت استعمال کرتا تھا ایسے میں فارسی جیسی شیریں زبان نے سنسکرت پر اپنا اثر ڈالنا شروع کر دیا اس زمانے کے حوالے سے ایک لطیفہ خاصا مشہور ہے کہ ایک مغل فوجی گھڑ سوار نے ایک جگہ ایک شخص کو بازار میں کوئی چیز تھتے ہوئے دیکھا اس نے فارسی میں دریافت کیا این چیست بازار میں بیٹھے شخص نے کہا کوریٹ چه مه گوئی اس ہندی شخص نے کہا تیل میں ڈبوئی پھر گھر سوار بولا بازار میں بیٹھا شخص بولا پیسے دو اس لطیفے سے اس دور میں دونوں زبانوں کے ایک

دوسرے سے اشتراک اور یکساں وزن کو بیان کیا گیا ہے فارسی زبان کی یہ ہی خوبی اسے اردو کی نشونما میں اہم عصر کیا درجہ دلاتی ہے۔ کونسا اردو زبان کا شاعر ایسا گزرا ہے جس کا مذہب کچھ بھی ہو اس نے فارسی سے ابتدا نہ کی ہو۔ مغل دور حکومت کی ابتدا میں فارسی زبان ہی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی اور ہر پڑھا لکھا شخص فارسی زبان پر عبور رکھتا تھا۔ حکمرانوں کی تقاریر مجموعہ قوانین اور مذہبی فلاسفی سب ہی فارسی  میں بیان کی جاتی تھی۔ سینکڑوں بڑے اولیائے کرام جن کے دم سے آج ہندوستان میں اسلام کا بول بالا ہے اپنے رسائل میں ہمیشہ عربی سے زیادہ فارسی تراکیب  استعمال کرتے رھے ہیں ۔ ہماری آج کی اردو زبان میں بے شمار محاورے جو ہم روز استعمال کرتے ہیں فارسی زبان سے ہی مستعار لئے گئے ہیں۔ جیسے خود کو نصیحت اوروں کی نصیحت جس کو فارسی  میں ” خودر انصیحت دیگر اں نصیحت سے لیا گیا ہی یا پھر کار امروز یه فرو الگزار یعنی آج کا کام کل پر مت ٹالو یا پھر قریض مقرارض محبت است میں تو اردو میں ادھار محبت کی تپہنچی ہے کہا جاتا ہے۔ فارسی میں سخن از سخن خیز یعنی ” بات سے بات نکلتی ہے فارسی میں مال دنیا چرک دست است یعنی پیر ہاتھ کا میل ہے فارسی میں احتیاح مادر اختراع است یعنی ضرورت ایجاد کی ماں ہے فارسی میں دنیم طبیب خطرہ جان ، نیم فقیه خطرہ ایمان اسے تو اردو میں نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملا خطرہ ایمان کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار محاورات اور تشبیہات موجود ہیں جو اردو زبان اور فارسی زبان کے فقید المثال رشتے کی عکاس ہیں۔ ہمیں خود علم نہیں ہوتا ہم کتنے الفاظ اور استعارات اپنی عام زبان میں استعمال کرتے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی اردو کے ساتھ فارسی کو اہمیت حاصل تھی کتنے فخر و انبساط کی بات ہے کہ ہمارا قومی ترانہ جس کو حفیظ جالندھری مرحوم نے تحریر کیا وہ فارسی زبان میں ہے۔ یہ ایک ایسا اٹوٹ رشتہ ہے فارسی اور اردو زبان میں جو رہتی دنیا تک ٹوٹ نہیں سکتا ، غور فرمائے جب ہم فخر سے پاک سرزمین شاد باد، کشور حسین شاد باد کہتے ہیں تو کیا ہم جانتے ہیں کہ یہ فارسی زبان ہے نہیں جانتے کیونکہ اس کا ہر لفظ ہماری اردو میں شامل ہے یہ وہ بنیاد ہے جو ہماری اردو زبان اور فارسی زبان کو ایک لازوال رشتے میں پرو دیتی ہے
” دھائیوں سے پاکستان میں فارسی زبان کے خلاف ایک اندیکھی تحریک چلتی جاری ہے مجھے یاد ہے میرے بچپن میں اردو زبان کی کتابوں میں ایک یا دو نظمیں فارسی  میں ہوا کرتی تھیں جن کی تشریح کرنی ہوتی تھی پھر چھٹی جماعت اور آٹھویں جماعت کے درمیان اختیاری مضامین کے طور پر عربی اور فارسی میں سے کوئی -ایک زبان پڑھنی ہوتی تھی لیکن جنرل ضیاء الحق اپنی میراث میں بہت ساری برائیاں چھوڑ گئے ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ فارسی زبان کا قلع قمع کر دیا گیا اور تو اور اب تو قارسی  کے وہ الفاظ  جو اردو زبان کے اندر اس طرح شامل ہو چکے ہیں کہ اردو کا ہی حصہ بن چکے ہیں ان کو بھی اردو بدر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مثلاً خدا حافظ جو ہمارے آباؤ اجداد صدیوں سے بولتے چلے آ رہے ہیں اس کو اللہ حافظ کیا جارہا ہے میری سمجھ میں نہیں آتا کیا میرا رب ذوالجلال اپنے نام کے ذکر کیلئے کسی ایک زبان کا پابند ہو سکتا ہے خدا کا مطلب بھی اللہ تعالی کی جانب ہی اشارہ ہے لیکن یہاں پاکستان میں مخصوص طبقے کی تنگ نظری کی وجہ سے اس کو تبدیل کیا جا رہا ہے ساتھ ہی اب تو نماز کو بھی صلاة اور پھر شاید روزے کو بھی صوم  میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ عربی ہماری پیاری زبان ہے اس کا ایک ایک لفظ چوم کر رکھا جاتا ہے اور ہماری اردو میں اس کے بھی ہزاروں الفاظ و استعارات موجود ہیں لیکن کسی ایک زبان میں سے مخصوص زبان کو منتخب کر کے اس کو نکال دنیا نہ صرف قتل عمد ہے بلکہ تہذیب ثقافت اور اصولوں کے ساتھ بھی مذاق ہے۔ نماز کے نام سے جو سجودگی کی کیفیت طاری ہوتی ہے وہ صلاۃ سے اس لئے نہیں ہو سکتی کہ وہ لفظ ہمارے لئے مقابلتاً غیر شناسا ہے خیر یہاں میری اس معاملے میں بات کرنے کی جسارت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ معاملہ یا تو ہمارے مذاہبی قائدین  دیکھ سکتے ہیں یا پھر زبانوں کے ماہرین جو کسی زبان کی ارتقای اس کے تہذیبی اثرات کو زیر بحث لا سکتے ہیں۔ میرے اس مضمون کا مقصد صرف ایک لطیف انداز میں فارسی زبان کے اردو زبان کے ساتھ ایک خوبصورت تعلق کو منظر عام پر لاتا تھا گو کہ میں جانتا ہوں کہ هنوز دلی دور است

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *