ایران کی یورینیم افزودگی 60 فیصد سے 3.6 فیصد تک کم کرنےکی پیشکش

ایران نے امریکا کو یورینیم افزودگی 60 فیصد سے 3.6 فیصد تک کم کرنےکی پیشکش کر دی۔

ایک عرب سفارت کار نے اسرائیلی میڈیا کو بتایا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی 60 فیصد سے 3.6 فیصد تک کم کرنے اور اسے 7 سال کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کر دی۔

عرب سفارت کار کا کہنا ہے کہ ایران نے معاہدے کا مجوزہ مسودہ امریکا کو پیش کر دیا ہے۔

عرب سفارت کار نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسودے میں بتایا گیا ہے کہ ایران جوہری افزودگی 60 فیصد سے 3 اعشاریہ 6 فیصد تک لے آئے گا۔

عرب سفارت کے مطابق ایران نے مستقبل میں جوہری افزودگی7 سال معطل رکھنے کی بھی پیشکش کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا فی الحال صفر جوہری افزودگی کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران نے ملک میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے تاہم اس نے انتہائی افزودہ یورینئم ڈائلیوٹ کرنے کی پیشکش کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ امریکا ایرانی جوہری پروگرام 10 سال تک معطل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کا موجودہ جوہری ذخیرہ بیرونِ ملک منتقلی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی پیشکش امریکی مطالبات کو پورا کرنے کا امکان نہیں رکھتی جس سے قریبی مدت میں ایران پر امریکی فوجی حملے کا امکان دوبارہ بڑھ گیا ہے۔

ایرانی دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی نے کہا ہے کہ مسئلہ جوہری ہتھیاروں کا ہے تو معاہدہ فوری دسترس میں ہے۔ 

تہران سے جاری اپنے  بیان میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کا جوہری ہتھیار تیار نہ کرنا ہے تو یہ قیادت کے فتوے کے عین مطابق ہے۔

علی شامخانی نے مزید کہا کہ مذاکرات کا یہ مقصد ایران کے دفاعی نظریے کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ عباس عراقچی کے پاس اتنی حمایت اور اختیار ہے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچ سکیں۔

جوہری معاملے پر ایرانی مسودہ وصول ہونے کی عمان کی جانب سے تصدیق کردی گئی ہے۔

عمانی وزیرِ خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے ملاقات میں مسودہ وصول کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق عمانی وزیرِ خارجہ آج امریکی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں ایرانی مسودہ پیش کریں گے۔

دوسری جانب ترجمان ایرانی وزیرِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات میں سنجیدگی اور لچک کے ساتھ حصہ لے رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات میں صرف جوہری معاملے اور پابندیوں کے خاتمے پر توجہ مرکوز ہوگی۔

ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 دارالحکومت بیجنگ سے جاری ہونے والے بیان میں چینی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم سیاسی و سفارتی طریقے سے مسائل کے حل کی حمایت کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی معاملات میں دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ جائز حقوق، مفادات، قومی استحکام کے تحفظ میں ایرانی حکومت اور عوام کی حمایت کرتے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

چینی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ چین ذمہ دار ملک کے طور پر اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *