class="post-template-default single single-post postid-10983 single-format-standard kp-single-standard elementor-default elementor-kit-7">

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے شہداء کی تعداد 634 ہو گئی

اسرائیلی فوج کے غزہ پر 5 روز سے حملے جاری ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے گزشتہ 48 گھنٹوں میں مزید 130 فلسطینی شہید ہو گئے۔5 روز میں جاری اسرائیلی بم باری سے شہداء کی تعداد 634 ہو گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی معاہدہ یک طرفہ ختم کر کے منگل سے غزہ پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔

لبنان سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے فوج کو لبنان پر حملوں کا حکم دے دیا۔

خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ آج صبح اسرائیل پر کیے حملوں کے ردعمل میں لبنان پر حملوں کا حکم دیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے امن مشن کا کہنا ہے کہ لبنان اسرائیل بگڑتی صورتحال خطے کےلیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے غزہ کے واحد خصوصی کینسر اسپتال اور اس کے ساتھ واقع میڈیکل اسکول کو تباہ کردیا۔ 

عرب میڈیا کے مطابق تل ابیب کو اس کارروائی پر عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انسانی حقوق کے قوانین کے تحت طبی مراکز کو نشانہ بنانا ممنوع ہے، لیکن اسرائیل نے ایک بار پھر اسپتال کو نشانہ بنایا۔جمعہ کو کیے گئے حملے میں غزہ کے وسطی علاقے میں واقع ترک-فلسطینی فرینڈشپ اسپتال کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ یہ اسپتال پہلے ہی اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں شدید نقصان کا شکار تھا۔سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوج کی بمباری کے بعد اسپتال کی جگہ سے آگ اور دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ نیٹزارم کوریڈور میں اپنی فوجی مہم کو وسعت دے رہا ہے اور صلاح الدین اسٹریٹ پر تمام نقل و حرکت روک دی گئی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اس اسپتال کی تباہی کے بعد ہزاروں مریضوں کےلیے کینسر کے علاج کی کوئی جگہ نہیں بچی۔یہ اسپتال 2017 میں ترکی کی 34 ملین ڈالر کی امداد سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا، لیکن اب مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔اسرائیل نے اسپتال کی تباہی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حماس کے زیر استعمال تھا لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ادھر ترک کی وزارت خارجہ نے اس حملے کو “ریاستی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا، “یہ حملہ اسرائیل کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد غزہ کو غیرآباد کرنا اور فلسطینی عوام کو زبردستی بے دخل کرنا ہے۔”ترکیہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ “وہ اسرائیل کے غیر قانونی حملوں کے خلاف عملی اور سخت اقدامات کرے”۔یہ اسپتال غزہ میں کینسر کے علاج کا سب سے بڑا مرکز تھا اور ہر سال 30 ہزار مریضوں کے علاج کےلیے مختص تھا۔

About the author /


Related Articles

Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Newsletter