ایرانی پاسداران انقلاب کے کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کر دیے۔

آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق علی السالم ایئر بیس پر واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک بڑے فوجی ساز و سامان کے گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور امریکی ڈرونز کے ایک ہینگر کو تباہ کر دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ العدیری بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں اور 2 ہیلی کاپٹر ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹروں و ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

آئی آر جی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے ایران میں امریکی حملوں کے دوران مواصلاتی ٹاورز پر کیے گئے حملوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔

اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے ظاہر کیا ہے کہ ایران طویل جنگ میں بھی بھاری نقصان پہنچانے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔

اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) امریکا اور اسرائیل کے خلاف گزشتہ 5 ماہ سے جاری جنگ کے بعد بھی مہلک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

17 جون کو ہونے والے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یکم مارچ کے بعد پہلی بار امریکی فوجی تنصیبات پر ایرانی حملوں میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

اگرچہ امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے حملے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ واشنگٹن کے لیے ایک تشویش ناک حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق مسلسل امریکی فضائی حملوں کے باوجود ایران اب بھی اتنی عسکری صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک غیر روایتی جنگ جاری رکھ سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیفنس پرائرٹیز تھنک ٹینک میں عسکری تجزیے کی ڈائریکٹر جینیفر کیوانا کا کہنا ہے کہ ایرانی فوجی صلاحیتیں اب بھی مضبوط ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ایران کے حملے زیادہ درست ہوتے جا رہے ہیں اور غالب امکان ہے کہ اسے روس اور چین کی انٹیلی جنس معاونت بھی حاصل ہو رہی ہے۔

ایران اب بھی امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں کیسے کامیاب؟

برطانوی جامعہ کے سینئر لیکچرر آندریاس کریگ کے مطابق خطے میں امریکی فوجیوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کا محلِ وقوع اور ان کا ڈیزائن بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی ایسے مستقل فوجی اڈوں پر تعینات ہیں جو ایران کے جدید میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہیں، جبکہ بیشتر اہلکار ایسے نیم مستقل ڈھانچوں میں رہتے ہیں جو بنیادی طور پر راکٹوں اور دیسی ساختہ بموں سے تحفظ کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

آندریاس کریگ کے مطابق ایسے حملے بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، حتیٰ کہ اگر میزائل اپنے ہدف سے معمولی فاصلے پر بھی گرے تو دھماکے کی شدید لہروں سے دماغی چوٹیں لگ سکتی ہیں، جبکہ فضا میں تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ بھی جانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اردن میں ہلاک ہونے والے 3 فوجیوں کے علاوہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ دیگر اموات براہِ راست ایرانی حملوں کا نتیجہ نہیں تھیں، ان میں مارچ میں فضائی ایندھن بھرنے کے دوران حادثے میں ہلاک ہونے والے 6 فضائی اہلکار اور حال ہی میں عراق میں مار گرائے گئے 1 مسلح ڈرون کو ناکارہ بناتے وقت ہلاک ہونے والا ایک آرمی سارجنٹ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 500 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 8 جولائی کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد تقریباً 220 فوجی تنصیبات، عمارتوں اور اہم عسکری آلات کو نقصان پہنچنے یا تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *