خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششیں عروج پر پہنچ گئی ہیں، ایک جانب وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ہیں تو دوسری جانب آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران سے بات چیت کے لیے تہران پہنچ گئے ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی تہران میں ملاقات ہوئی، ایران امریکا مذاکرات کے اگلے دور اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مشاورت کی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مذاکرات کیے، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ساتھ تھے۔
مبصّرین کا خیال ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا کی تجاویز ایران تک اور ایران کا جواب امریکا تک پہنچانے میں موثر ترین کردار ادا کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں کچھ دن بعد ہونے والے مذاکرات کے لیے ایسی بنیاد تیار کر رہے ہیں جن پر مذاکرات یقینی طور پر کام یاب ہو سکیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کو اعتماد میں لینے کے مشن پر ہیں جو پاکستان کا ایک بڑا اسٹریٹجک اتحادی ہے۔ ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی ہو گی جس کے بعد وزیراعظم ترکیہ جائیں گے جو خطے کا ایک اور اہم کھلاڑی ہے۔
منگل کو امریکی صدر ٹرمپ نے اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک اور دور ہونے کی نوید سنائی تھی۔
اسلام آباد سے جیو نیوز کے نمائندے ایاز اکبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اگلے ہفتے کے آخر میں ہونے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے انتظامیہ اورسیکیورٹی اداروں کو تیاریوں کی ہدایت جاری کی جا چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور میں بھی امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدرجے ڈی وینس،اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے۔ ایران کی جانب سے مجلس کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی نمائندگی کریں گے۔
پاکستان ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل آرمی چیف سید عاصم منیر ثالث کے طور پر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
اس سے پہلے ایرانی وزارت کارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا تھا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے تسلسل میں ایران آج پاکستانی وفد کی میزبانی کرے گا۔
پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، فریقین کے درمیان تعطل ختم ہونے کے قریب ہے اور جلد کسی معاہدے کا امکان ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد تہران پہنچا جہاں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی، وفد امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کے دوسرے دور کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اہم تنازع ایران کی یورینیئم افزودگی (انرِچمنٹ) کی مدت اور 440 کلو گرام افزودہ یورینیئم کے ذخیرے پر ہے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی توجہ 5 سے 20 سال تک افزودگی روکنے کے درمیان کسی درمیانی حل پر مرکوز ہے جبکہ ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنے یا کم سطح پر لانے جیسے آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب خطے میں جنگ سے ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان حملے رک گئے ہیں تاہم لبنان میں کشیدگی برقرار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایران میں خوش آمدید کہتے ہوئے خوشی ہوئی، پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی شاندار میزبانی پر اظہار تشکر کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ یہ ہمارے گہرے اور عظیم دو طرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہمارا عزم مضبوط اور مشترکہ ہے۔
خیال رہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششیں عروج پر پہنچ گئی ہیں، ایک جانب وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ہیں تو دوسری جانب آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران سے بات چیت کے لیے تہران پہنچ گئے ہیں۔
مبصّرین کا خیال ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا کی تجاویز ایران تک اور ایران کا جواب امریکا تک پہنچانے میں موثر ترین کردار ادا کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں کچھ دن بعد ہونے والے مذاکرات کے لیے ایسی بنیاد تیار کر رہے ہیں جن پر مذاکرات یقینی طور پر کام یاب ہو سکیں۔










Post your comments