امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب مزید ایرانی رہنماؤں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، میں نے خود سے وعدہ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ایریزونا کے شہر بُل ہیڈ سٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ ایرانی قیادت کے مختلف رہنماؤں کو مسلسل نشانہ بناتے ہوئے شاید ہم حد سے آگے نکل گئے ہیں کہ اب ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ایران میں مزید کس سے بات کی جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس لیے اب وعدہ کرتا ہوں کہ مزید ایرانی عہدیداروں کو نشانہ نہیں بناؤں گا۔
ٹرمپ کے مطابق ایرانی قیادت کی پہلی اور دوسری سطح کے رہنما مارے جا چکے ہیں، جبکہ تیسری سطح کی قیادت کے نصف افراد بھی مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اب اپنے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ میں مزید ایرانی رہنماؤں کو نشانہ نہیں بناؤں گا، میں شاید کچھ زیادہ ہی آگے نکل گیا تھا جس کا مجھے افسوس ہے، کیونکہ اب مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ اب آخر کس کے ساتھ معاملات کروں۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ضروری قرار دیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کر کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر اسے استعمال کرتے ہوئے یورپ، اسرائیل اور امریکا کے مغربی ساحل کو بھی نشانہ بنا سکتا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خفیہ معلومات افشاں کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ خبر رساں اداروں کو ایران پر حملے کا وقت معلوم ہونے کے باعث میں نے کارروائی منسوخ کر دی تھی۔
ٹرمپ نے ایریزونا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں پرانے زمانے کی طرح اب بھی خفیہ معلومات افشاں کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے۔
ٹرمپ کے مطابق بی 2 اسٹیلتھ بمبار طیارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھیجے گئے تھے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں لیکن ایران ان طیاروں کا انتظار کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کسی گھٹیا شخص نے معلومات افشاں کی تھیں، اسے جیل بھیج دینا چاہیے اور گولی بھی مار دینی چاہیے، اسے اپنی باقی زندگی جیل میں گزارنی چاہیے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ کسی نے یہ خبر لیک کی کہ میں میسوری سے رات 12 بج کر 7 منٹ پر روانہ ہو رہا ہوں اور یہ خبر نیویارک ٹائمز اور سی این این میں بھی آ گئی، انہوں نے ہمارے روانہ ہونے اور پہنچنے دونوں کے اوقات افشاں کر دیے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دو روز بعد اسی وقت کارروائی انجام دی جانی تھی، یہی وہ واحد موقع تھا جب ایران کو ہماری آمد کی توقع نہیں تھی، لیکن خبر لیک ہونے کے بعد مجبوراً کارروائی روکنا پڑی۔
امریکی صدر نے خفیہ معلومات افشاں کرنے والوں کو زمین پر موجود بدترین لوگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف بہت سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔




