اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے صدارتی فرمان پیش کر دیے گئے۔
دونوں فرمان وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیے۔
خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تحریک کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 56 ووٹ آئے۔
ووٹنگ کے دوران اپوزیشن کے ارکان نے احتجاج بھی کیا۔
آج وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں پہنچے تھے جہاں انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی سے گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف پیپلز پارٹی کے اراکینِ قومی اسمبلی سے بھی ملے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی تھی۔
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی بطور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا تقرری کے خلاف درخواست غیر مؤثر قرار دے دی۔
آئینی عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد درخواست پر مزید کارروائی نہیں ہو سکتی، اس وقت سہیل آفریدی وزیرِ اعلیٰ کے عہدے پر نہیں۔
جسٹس باقر نجفی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی الگ قانونی معاملات ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کو بھی چیلنج کرنا چاہتا ہوں۔
آئینی عدالت کے چیف جسٹس نے کہا کہ ایمرجنسی کے خاتمے اور وزیرِ اعلیٰ کی بحالی کی صورت میں نئی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔




