فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
جنگ سے قبل یہ اہم بحری گزرگاہ تمام جہازوں کے لیے محفوظ اور بلا معاوضہ تھی اور پُرامن ادوار میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی، تاہم جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے جوابی کارروائی میں اس گزرگاہ میں دشمن کے جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بحری آمد و رفت تقریباً معطل ہو گئی اور عالمی توانائی ترسیل کا شدید بحران پیدا ہوا۔
اب جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا لائحہ عمل متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ناصرف گزرنے والے جہازوں کے لیے مخصوص راستے مقرر کیے گئے ہیں بلکہ ممکنہ طور پر ٹول ٹیکس بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت آبنائے ہرمز پر کس کا کنٹرول ہے؟
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق جنگ بندی کے دوران جہازوں کو گزرنے کی اجازت ایرانی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت دی جا رہی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں جہازوں کو روایتی راستے کے بجائے ایران کے ساحل کے قریب سے گزرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس تبدیلی کی وجہ ممکنہ بارودی سرنگوں کا خطرہ بتایا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ امریکی فوج اس علاقے میں موجود رہے گی اور بحری ٹریفک کی نگرانی کرے گی، تاہم عملی کنٹرول کی نوعیت ابھی واضح نہیں۔
ایران کا 10 نکاتی منصوبہ کیا کہتا ہے؟
ایران کے مجوزہ 10 نکاتی امن منصوبے میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تمام حملوں کا مستقل خاتمہ، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رکھنے جیسے اہم مطالبات شامل ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر بھاری فیس عائد کرنے پر غور کر رہا ہے، ممکنہ طور پر فی جہاز 20 لاکھ ڈالرز یا فی بیرل تیل 1 ڈالر تک، یہ محصولات جنگ سے متاثرہ انفرااسٹرکچر کی بحالی پر خرچ کیے جائیں گے، تاہم عمان، جو اس گزرگاہ کا دوسرا ساحلی ملک ہے، اس تجویز کو مسترد کر چکا ہے۔
کیا بین الاقوامی قانون اس کی اجازت دیتا ہے؟
بین الاقوامی سمندری قوانین، خصوصاً اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت بین الاقوامی گزرگاہوں سے گزرنے پر فیس عائد نہیں کی جا سکتی۔
البتہ ساحلی ممالک نیویگیشن یا دیگر خدمات کے عوض فیس لے سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران بارودی سرنگوں کی صفائی یا سیکیورٹی کے نام پر فیس لے تو ممکن ہے اسے قانونی جواز مل جائے، ماضی میں کسی بھی ملک کی جانب سے اس نوعیت کا باضابطہ ٹول عائد کرنے کی مثال نہیں ملتی۔
عالمی ردِعمل کیاہو سکتا ہے؟
ایران کی اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر خلیجی ممالک ہوں گے، جو پہلے ہی اس گزرگاہ کی بندش سے متاثر ہیں، ان ممالک نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس حوالے سے قرارداد پیش کی گئی، جسے بیشتر ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، تاہم روس اور چین نے اسے ویٹو کر دیا۔
امریکا سمیت مغربی ممالک کی جانب سے بھی اس منصوبے کی مخالفت متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اس بات کو قبول نہیں کریں گے کہ ایک عالمی اہمیت کی گزرگاہ پر مستقل ٹول عائد کیا جائے۔
عملی صورتحال کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریاستیں اس اقدام کی مخالفت کریں گی لیکن بحری جہازوں کے مالکان، جو روزانہ لاکھوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، ممکنہ طور پر عارضی طور پر ایران کی شرائط ماننے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر اگر سیکیورٹی خدشات برقرار رہے تو جہاز مالکان اپنی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے ایران کے مقرر کردہ راستوں اور ممکنہ فیس کو قبول کر سکتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت تاحال انتہائی محدود ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات کم ہونے کے بجائے برقرار ہیں۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی صرف چند جہاز ہی اس اہم گزرگاہ سے گزر سکے ہیں، بدھ کے روز 5 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی، جبکہ جمعرات کو صرف 7 جہاز گزرے۔
مارکیٹ انٹیلی جنس فرم کپلر کے مطابق صورتِ حال اب بھی غیر یقینی ہے اور جہاز مالکان محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث یومیہ صرف 10 سے 15 جہازوں کی محدود آمد و رفت ممکن ہو سکتی ہے، وہ بھی اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو۔
رپورٹس کے مطابق 600 سے زائد جہاز جن میں 325 آئل ٹینکرز شامل ہیں، خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ آبی راستہ دنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کا تقریباً پانچواں حصہ ترسیل کرتا ہے اور عام حالات میں یہاں سے روزانہ 120 سے 140 جہاز گزرتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا اور جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم نہیں کر رہا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران تیل کی ترسیل کی اجازت دینے میں ناکام ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ بندی اور مزید کشیدگی کے درمیان انتخاب کرنا ہو گا۔
ادھر متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی ایڈناک کے سربراہ سلطان احمد الجابر نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی نہیں بلکہ اس تک رسائی محدود اور مشروط ہے، جو آزادانہ بحری آمد و رفت کے اصولوں کے منافی ہے۔
جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی، تاہم موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگی ہیں۔










Post your comments