جنگوں کا فیصلہ سوشل میڈیا پر نہیں میدانِ جنگ میں ہوتا ہے: ترجمان پاسدارانِ انقلاب

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ جنگوں کا فیصلہ سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں ہوتا ہے۔

ایک بیان میں ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی آپریشن کا نام ایپک فیوری کے بجائے ایپک فیئر ہونا چاہیے۔

دوسری جانب ایک بیان میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ علاقائی سلامتی کو پائیدار ہونا چاہیے، اسے باہر سے نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کو بتایا تھا کہ خطے میں امریکی موجودگی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں، پائیدار علاقائی سلامتی ضروری ہے، اسے باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ خطے کے اسلامی ممالک مل کر معاشی اور سیکیورٹی سطح پر نیا علاقائی نظام قائم کریں گے، امریکی افواج کو خطے سے نکل جانا چاہیے۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دشمن ہم پر اپنا منصوبہ تھوپنے میں ناکام رہا، ہم نے جو منصوبہ بنایا تھا اس پر عمل کیا۔

ایران کے شمال مشرقی علاقے میں جاسوسی کے الزام میں 10غیر ملکی افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ان افراد کو پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے نے کارروائی کے دوران حراست میں لیا ہے۔

گرفتار افراد پر حساس تنصیبات سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے اور ممکنہ فیلڈ آپریشنز کی تیاری کا الزام ہے۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کی قومیت کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

آبنائے ہرمز میں ایک نیا حساس سمندری راستہ سامنے آیا ہے، جس کے لیے جہازوں کو ایرانی حکام کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہو گی۔

عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق یہ غیر رسمی میرین ٹریفک کنٹرول نظام کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی ٹینکرز نے ایرانی ساحل کے قریب اس محفوظ راستے سے گزر کر اسے اہم علامتی حیثیت دی ہے، نئے راستے کی اہمیت جزیرہ لارک اور قشم جزیرے کے درمیان واضح ہو گئی ہے، جہاں سے گزرنا ہر جہاز کے لیے لازمی ہو جائے گا۔

اس راستے سے گزرنے کے لیے تہران سے سیاسی گرین سگنل کی ضرورت ہو گی، تاکہ جہاز محفوظ طریقے سے راستہ طے کر سکیں۔

بین الاقوامی بیمہ کمپنیاں اور بینک اس نئے نظام اور بڑھتے خطرات سے پریشان ہیں، کیونکہ ایرانی منظوری کے بغیر جہازوں کی نقل و حمل ممکن نہیں۔

مزید برآں بھارت، ترکی اور دیگر کئی ممالک نے ایران سے محفوظ راہداری کی درخواستیں بھی کر دی ہیں، تاکہ خطے میں بحری نقل و حمل کے خطرات کم کیے جا سکیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *