امریکا ایران جنگ بندی کا عالمی سطح پر خیرمقدم

امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ بندی کا عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے امریکا ایران جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے جنگ بندی کی شرائط پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔

ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے اور ایسا معاہدہ کیا جائے جو ناصرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے۔

ادھر انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارت کاری کا احترام کرنا چاہیے۔

 وزارت خارجہ انڈونیشیا نے امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کی اپیل بھی کی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ بندی دیرپا امن کی جانب اہم پہلا قدم ہونا چاہیے۔

جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت جنگ بندی کے لیے اہم معاہدہ کرانے پر پاکستان کی شکر گزار ہے، اب توجہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات پر ہونی چاہیے، جرمن حکومت سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔

عمان نے بھی ایران، امریکا اور اسرائیل جنگ بندی کا خیر مقدم  کیا ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ جنگ بندی منصوبے پر آبنائے ہرمز کے شراکت دار ممالک کی منظوری ہونی چاہیے۔

دوحہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ کسی بھی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ سے متعلق ممکنہ معاہدے کی کامیابی کےلیے بین الاقوامی نگرانی ہونے چاہیے۔

ترجمان قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک کو موجودہ کشیدگی کے حل کےلیے تیار امن منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے توانائی تنصیبات پر حملے ناقابل قبول ہے۔

امریکی ماہر برائے جنوبی ایشیا مائیکل کوگلیمین کا کہنا ہے کہ آج رات پاکستان نے حالیہ برسوں میں سب سے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی۔

ایک بیان میں مائیکل کوگلیمین نے کہا کہ پاکستان نے شکوک و شبہات رکھنے والوں اور ناقدین کو بھی غلط ثابت کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے تھے پاکستان پیچیدہ اور اعلیٰ سطح کے معاملے کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

امریکی ماہر برائے جنوبی ایشیا کا کہنا ہے کہ سب سے اہم یہ کہ اس نے ایران میں ممکنہ تباہی کو ٹالنے میں مدد دی۔

پاکستان میں تعینات برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اہم جنگ بندی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان کا خاموش، مؤثر سفارتکاری کا شکریہ۔

جین میریٹ نے لکھا کہ پاکستان کا شکریہ کہ اس نے اس اہم سیز فائر میں کردار ادا کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کردی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا سویلین انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی ڈیڈ لائن سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی جنگ بندی کا اعلان کیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *