وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یومِ دستور کے موقع پر دستور کے معماروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے آئین کو عوام اور ریاست کے درمیان ایک مقدس معاہدہ قرار دیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ آج قوم آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منظوری کا دن قومی جذبے سے منا رہی ہے، آئین شہریوں کے حقوق و فرائض کا قانونی، اخلاقی اور انتظامی تعین کرتا ہے۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ 10 اپریل 1973ء کو منظور ہونے والے متفقہ آئین نے پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام کی بنیاد رکھی اور یہ تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا محافظ ہے۔
شہباز شریف کا مزید کہنا ہے کہ 1973ء کا آئین وفاق پاکستان اور قومی اتحاد کی درخشندہ علامت ہے جبکہ تمام ریاستی اکائیاں قومی یکجہتی اور معاشی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور روشن مستقبل کے لیے پُرعزم ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو جس عزت سے نوازا ہے، اس پر ہم اس کے شکر گزار ہیں، پاکستان عالمی برادری میں سربلند ہو کر ترقی و خوش حالی کا سفر جاری رکھے گا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ دستور کے موقع پر خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 1973ء کا آئین قومی وحدت کی علامت، ریاست کا بنیادی قانونی و سیاسی فریم ورک ہے جو طویل مشاورت اور اتفاقِ رائے کا نتیجہ تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ آئین کی متفقہ منظوری اس کی سب سے بڑی طاقت ہے، تمام چیلنجز کے باوجود آئین نے ریاستی تسلسل برقرار رکھا، یہ آئین اداروں کی بحالی اور استحکام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو 1973ء کے آئین کے معمارِ اعظم تھے، سیاسی جماعتوں نے مختلف ادوار میں آئین کا دفاع کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا، میثاقِ جمہوریت جمہوری نظام کی بحالی کی بنیاد بنا، آئین عدالتوں، تعلیمی اداروں اور انتظامیہ کے نظام کو متعین کرتا ہے۔
آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ آئین کا اطلاق عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، عوام ہی اپنے مقدر کے اصل مالک ہیں۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ آئین کی اہمیت اس کے مخلصانہ نفاذ میں مضمر ہے، مضبوط جمہوریت کے لیے آئین پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔










Post your comments