آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026ء کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے۔
یہ میچ سری لنکا کے پالی کیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک کی شاندار سنچری نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا۔
انگلینڈ نے 165 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 8 وکٹوں کے نقصان پر 5 گیندیں قبل مطلوبہ اسکور حاصل کیا اور گروپ 2 میں 4 پوائنٹس کے ساتھ سرِ فہرست پوزیشن مستحکم کر لی۔
میچ کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
سابق کپتان محمد حفیظ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ پاکستان کی ناکامی کی وجہ صرف یہ میچ نہیں بلکہ پورے ٹورنامنٹ میں حکمتِ عملی کی غلطیاں رہیں۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے ہیری بروک کی قیادت اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروک نے فرنٹ سے لیڈ کیا اور انگلینڈ کو سیمی فائنل میں پہنچایا، جبکہ پاکستان کا رولر کوسٹر جاری ہے۔
سابق کپتان شعیب ملک نے کہا کہ جدید کرکٹ کھیلنے کے دعوے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک بنیادی مہارت، گیم اویرنیس اور نظم و ضبط کو بہتر نہ بنایا جائے، بنیاد مضبوط کیے بغیر جدید انداز اپنانا ایسے ہے جیسے نرسری پڑھے بغیر دسویں جماعت کا امتحان دینا۔
بھارت کے سابق فاسٹ بولر مناف پٹیل نے بھی ہیری بروک کی اننگز کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کو مکمل بولنگ اٹیک کی کمی اور کمزور فیلڈنگ سے نقصان اٹھانا پڑا۔
سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے ٹورنامنٹ کی کنڈیشنز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں امکان ہے کہ کوئی بھی برصغیر کی ٹیم سیمی فائنل تک نہ پہنچ سکے۔
پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر احمد شہزاد نے ٹیم کی حکمتِ عملی اور پلیئنگ الیون پر سخت تنقید کی۔
ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ اپنی بہترین فارم میں نہیں تھا اور پاکستان کے پاس سنہری موقع تھا، لیکن ناقص منصوبہ بندی، غلط شاٹ سلیکشن اور کنفیوز پلیئنگ الیون کے باعث میچ ہاتھ سے نکل گیا۔
احمد شہزاد نے انفرادی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم کی 24 گیندوں پر 25 رنز کی اننگز نے رفتار کم کی، شاداب خان نے مڈل اوورز میں مہنگی بولنگ کی، صائم ایوب خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے، ابرار احمد کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا۔
پاکستان کی اس شکست کے بعد سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں مزید مشکل ہو گئی ہیں، جبکہ ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اور تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔













Post your comments