ایرانی رجیم کا خطرہ ختم کرنے کیلئے امریکا کیساتھ آپریشن شروع کیا ہے: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران پر حملے سے متعلق کہا ہے کہ ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے امریکا و اسرائیل نے آپریشن شروع کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا و اسرائیل نے ایرانی دہشت گردی کی حکومت کے موجودہ خطرے کو دور کرنے کے لیے یہ آپریشن شروع کیا ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ آپریشن ایرانی لوگوں کے لیے تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے حالات پیدا کرے گا، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے اچانک حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام آپریٹ کر رہے ہیں، ایرانی میزائل اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب داغے گئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت کر دی ہے۔

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی اور سمندری حملوں کے بعد ملک میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کر دی گئی جبکہ متعدد ایرانی نیوز ویب سائٹس ہیک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق آج (ہفتے کے روز) ایران کی کئی خبر رساں ویب سائٹس ہیک کر دی گئیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق متاثرہ ویب سائٹس میں ارنا، اسنا، تبنک اور عصرِ ایران شامل ہیں، جبکہ میڈیا پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے والے وسیع تر سائبر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

میڈیا کے مطابق ایران بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کر دی گئی ہے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی، موبائل نیٹ ورکس اور ٹیکسٹ میسج سروسز بتدریج معطل ہو رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور موبائل سگنلز میں رکاوٹیں سامنے آئی ہیں، جس سے عوام کو آن لائن مواصلات کے استعمال میں دشواری کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد تہران اور دیگر کئی مقامات دھماکوں سے گونج اٹھے جس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیئم کی افزودگی نہ کرے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ایران کے مؤقف سے مطمئن نہیں تھے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *