امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی وجہ سے صورتِ حال غیر متوقع ہوئی تو ایران پر دوبارہ حملے شروع ہو جائیں گے۔
ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدے تک امریکی بحری جہاز، ایئر کرافٹ اور فوجی اہلکار ایران کے اردگرد موجود رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حملے پہلے سے زیادہ بڑے اور طاقت ور ہوں گے جنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہو گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پہلے ہی طے ہو چکا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکی فوج اس دوران اپنی بھرپور تیاری اور آرام کر رہی ہے، امریکی فوج درحقیقت اپنی اگلی فتح کی منتظر ہے۔
دوسری جانب ایرنی میڈیا نے اہم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھی تو ایران عبوری جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور کررہے ہیں۔
امریکی جریدے کے مطابق ایسے نیٹو ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکالا جائے گا جو ایران جنگ میں غیرمعاون رہے۔
امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کو ان ممالک میں تعینات کیا جائے گا جو اس جنگ میں حمایت کر رہے ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ممکنہ طور پر اسپین یا جرمنی میں امریکی اڈے بند کرنے کا پلان بنا سکتے ہیں۔










Post your comments