امریکی فوج کے ایران پر حملے، سینٹرل کمانڈ کی تصدیق

امریکی فوج نے ایران پر حملہ کیا ہے، سینٹرل کمانڈ نے حملے کی تصدیق کردی۔

سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ایرانی حملوں کی کوشش کے جواب میں کی گئی ہے۔

ایران کے جنوبی علاقوں میں کئی مقامات پر دھما کے سنے گئے۔

روسی میڈیا کے مطابق تازہ حملے کویت سے کیے گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ قیشم جزیرے اور بوشہر میں دھماکے سنے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ابادان پر بھی حملہ کیا اور بندر عباس میں بھی دھماکے سنے گئے۔

یاد رہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹ کام کے مرکز پر ایرانی حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت حملوں کی دھمکی تھی اور کہا تھا کہ ایران کو سخت سبق سکھائیں گے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ مسلح ملیشیا گروپس دنیا کے لیے کینسر ہیں۔

علاوہ ازیں امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے 8 ٹینکروں اور 10 شخصیات پر پابندیاں بھی لگادیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف شدید نوعیت کے فضائی حملوں کی ایک بڑی لہر مکمل کر لی ہے۔

سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ روز اردن میں تعینات امریکی افواج پر مبینہ میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔

سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملوں کے دوران ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی اور دفاعی مقامات اور بحری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے امریکی افواج، تجارتی بحری جہازوں اور خلیجی خطے کے ہمسایہ ممالک کو لاحق خطرات کو مزید کم کرنا تھا۔

سینٹ کام نے یہ بھی کہا ہے کہ اس وقت خطے میں تعینات 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مکمل چوکس ہیں اور ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ میں کیا حکمت عملی اپنائی جائے، امریکی فوجی قیادت اس معاملے میں تقسیم ہوگئی ہے۔ 

امریکی اخبار کے مطابق سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر چاہتے ہیں کہ ایران پر بڑے فضائی حملے کیے جائیں جو دو ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔

تاہم جنرل کین اور وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ چاہتے ہیں کہ ایئر ڈیفنس اسٹاک کو بچایا جائے۔ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس معاملے پر سخت فیصلے کا سامنا ہے کہ جنگ کو کس قدر بڑھایا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اڈے پر ایران کے حملوں کا سخت جواب دینے کی دھمکی دی تھی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *