امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران عراقی مسلح گروپس کی ایران آمد نے خطے کی صورتِ حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کی حمایتی، عراقی نیم فوجی تنظیم حشد الشعبی کے جنگجو ایک ’انسانی امدادی قافلے‘ کے تحت ایران میں داخل ہوئے ہیں جسے ایرانی میڈیا نے حمایت اور وفاداری کا پیغام قرار دیا ہے۔
ایرانی اور عراقی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں درجنوں پِک اَپ گاڑیوں پر مشتمل قافلہ ایران میں داخل ہوتا دکھایا گیا ہے جس کے ساتھ خوراک اور طبی سامان سمیت امدادی اشیاء بھی موجود تھیں۔
جنگجوؤں نے عراقی پرچم کے ساتھ لبنان کی تنظیم حزب اللّٰہ کا پرچم بھی لہرایا۔
’الجزیرہ‘ کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے اس قافلے کو ’عراقی عوام کی جانب سے پہلی انسانی امداد‘ قرار دیا ہے جبکہ سرکاری عربی چینل ’العالم‘ کے مطابق قافلہ 70 ٹن خوراک اور طبی سامان پر مشتمل تھا۔
یہ قافلہ جنوبی عراق کے شہر بصرہ سے روانہ ہو کر خوزستان کے سرحدی علاقے شلمچہ کے راستے ایران میں داخل ہوا جو ایران عراق جنگ کے دوران اہم محاذ رہا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران اور عراق کے مسلح گروپوں کے درمیان تعلقات امریکا کے عراق پر حملے کے بعد مزید مضبوط ہوئے ہیں اور یہ گروہ اب ایران کی قیادت میں قائم مزاحمتی اتحاد کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
ادھر سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں کہ کچھ عراقی جنگجو تہران میں موجود ہیں تاہم ایرانی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
ایران کے اندر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پاسدارانِ انقلاب کی بسیج فورس نے مختلف شہروں میں چیک پوسٹس قائم کر دی ہیں، حکام نے ’دفاعِ وطن مہم‘ کے تحت 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کی بھرتی کا اعلان بھی کیا ہے۔
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جنوبی ساحل پر واقع اہم جزیروں پر ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے جو آبنائے ہرمز اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے عراقی کرد جنگجوؤں کے ذریعے ایران کے اندر نیا محاذ کھولنے پر بھی غور کیا ہے تاہم منصوبہ فی الحال مؤخر بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے عراق کے کرد علاقوں میں امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک اہداف پر ڈرون اور میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر کرد جنگجو ایران میں داخل ہوئے تو تمام تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسی دوران امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے تہران سمیت مختلف شہروں میں جاری ہیں جن میں جوہری تنصیبات، اسٹیل فیکٹریوں اور ایک جامعہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ حملوں کے باعث تہران اور قریبی شہر کرج کے کئی علاقوں میں بجلی کی عارضی بندش بھی رپورٹ ہوئی ہے۔












Post your comments