پولنگ شروع ہونے سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہونے سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا لگ گیا۔

امریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں متنازع ووٹوں کی گنتی روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا الزام ہے کہ بعض ووٹرز امریکی شہری نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں چند گھنٹے رہ گئے، سروے اور پول میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں برتری ملنے کا امکان ہے۔

سینیٹ کی 7 اہم نشستوں پر سخت مقابلہ متوقع ہے۔

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی پر ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کے بغیر حکمرانی کی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کی صحافی مرانڈا ڈیوائن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیا تو میں ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا، میں انہیں معاملات خراب کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔

انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ کچھ عرصے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات طے پانے کے لیے مذاکرات بھی ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کے بل مسلسل ویٹو کیے جاتے رہے تو 1 یا 2 ماہ بعد میں خود معاہدے کے لیے آگے آ سکتا ہوں۔

انتخابات میں ریپبلکنز کو مشکلات کا سامنا

رپورٹ کے مطابق انتخابات سے قبل ہونے والے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیمو کریٹس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو معیشت، ایران کے ساتھ جنگ اور عوامی مقبولیت میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہونے کی وجہ سے ٹیکساس اور کنساس جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

امریکی صدر نے چیلنجنگ صورتِ حال ہونے کے باوجود بھی امید ظاہر کی ہے کہ ریپبلکن پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔

کانگریس کے بغیر حکومتی ایجنڈا آگے بڑھانے کی تیاری

امریکی جریدے فوربز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر، بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ اور قانونی مشیر کانگریس کی منظوری کے بغیر صدارتی ایگزیکٹیو آرڈرز کے ذریعے حکومتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بھی کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دونوں صدارتی مدتوں کے دوران مجموعی طور پر 512 ایگزیکٹیو آرڈرز جاری کر چکے ہیں، جن میں سے کم از کم 292 ان کی دوسری مدت کے دوران جاری کیے گئے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت میں 2018ء کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول کھو بیٹھی تھی، تاہم سینیٹ میں اکثریت برقرار رہی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں