وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوام کو پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے سے بچانے کیلئے مقامی ریفائنریز کے تعاون سے قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے جسکے تحت ریفائنریز ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا مالی بوجھ برداشت کریں گی،ریفائنریز نے بہت منافع کمایا، تعاون کے شکرگزار ہیں، 27 ارب کا ریلیف دے چکے،ایل پی جی کی 600 روپے قیمت ناجائز ہے، اس کے خلاف اقدامات کریں گے،خطے کی صورتحال کے پیش نظر نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا،عوام کو ریلیف کی فراہمی وزیراعظم کی اہم ترجیحات میں شامل ہے،عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستانی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔دوسری جانب ریفائنریز نے وزیر پیٹرولیم کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے حکومت قیمتوں کا نیا میکنزم ہماری مشاورت کے بغیر کیسے لے سکتی ہے، 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑجائیگی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اتار چڑھا شروع ہو گیا ہے، پٹرول کی قیمت کے تعین میں سپاٹ مارکیٹ کے علاوہ لاجسٹکس، انشورنس اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں، بڑے تیل بردار جہازوں کے کرایوں اور انشورنس کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پٹرول، 15 روپے عوام کو ریلیف، بوجھ ریفائنریز پر منتقل کردیا، وفاقی وزراء
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




