امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی اہداف کو دفاعی حملوں میں نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی۔
امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ان ایرانی فورسز کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی تنصیبات پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کر رہی تھیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پیر کی رات جزیرہ قشم پر یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
عینی شاہدین نے جزیرے کے اوپر 2 طیارے پرواز کرتے دیکھنے کی بھی اطلاع دی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق بندر لنگہ شہر میں بھی سمندر کی جانب سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت محدود کرنا تھا۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن نے بڑی فوجی کارروائیوں کی بحالی کا تاثر دینے سے بچنے کے لیے حملوں کو محدود رکھا ہے۔
امریکی میڈیا فوکس نیوز اور ایکسیوس کے رپورٹرز کے مطابق یہ حملے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے پیر کو آبنائے ہرمز میں ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کیے گئے۔
فوکس نیوز کی رپورٹر جینیفر گریفن نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ امریکا کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کے آغاز کی علامت نہیں۔
دوسری جانب ایران یا امریکا کی جانب سے ان حملوں پر فوری طور پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے الیکٹرانک جنگی نظام استعمال کرتے ہوئے قشم جزیرے کے جنوب میں 2 امریکی جاسوس ڈرون قبضے میں لے لیے جبکہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک ایم کیو 9 ڈرون تباہ کر دیا۔
ادھر ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کی روک تھام کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نئی جارحیت کا فوری اور پہلے سے زیادہ سخت اور وسیع پیمانے پر جواب دیا جائے گا، ممکنہ جنگ کا دائرہ مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا جواب ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت اور وسیع ہو گا۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ چھڑی تو تنازع کا جغرافیہ صرف مغربی ایشیاء تک محدود نہیں رہے گا۔
محمد اکرمینیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج اپنے اہداف کی فہرست کو مسلسل اپ ڈیٹ کر رہی ہیں تاکہ دشمن کے تمام ممکنہ اثاثوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ نئی جنگ کی صورت میں امریکی تنصیبات، فوجی ساز و سامان، اہلکار اور مفادات دنیا کے کسی بھی ایسے مقام پر نشانے پر آ سکتے ہیں جو ایرانی حملوں کی حدود میں ہو۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ دشمن عناصر نے شمالی عراق کے کرد علاقے میں حکومت مخالف گروہوں کو مسلح کر کے ایران کی مغربی سرحدوں پر زمینی محاذ کھولنے کی کوشش کی، تاہم ایرانی فوجی دستوں کی تعیناتی اور ان گروہوں کے ٹھکانوں پر پیشگی کارروائیوں کے ذریعے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔




