class="post-template-default single single-post postid-3178 single-format-standard kp-single-standard elementor-default elementor-kit-7">

امان للہ خان صاحب کی یاد پر لکھی تحریر 26اپریل کو برسی پر شامل اشاعت کریں ۔ شکریہ

 آ زاد ی کا نشا ن
  آصف اشرف. آج اس شخص کی یاد بھی بہت آرہی ہے اور کمی بھی شدت سے محسوس ہو رہی ہے جو ضیعف العمر ی میں بھی کانپتے ہاتھوں لٹکتے نڈھال جسم کے سہارے صر ف وحدت کشمیر بچانے اور آزاد ی کشمیر کے لیے ہمہ تن گوش مصروف رہا آج جب بھارت 5اگست 2019کے جابرانہ فیصلہ کے بعد عملی طور شکست خوردگی کی طرف بڑھ رہا ہے بھارتی انتہا پسند گروہ پی جے پی کو جموں کشمیر کی ایک بھی نشست پر امیدوار تک نہیں ملا تو اس کی کمی کے ساتھ اس کی یاد شدت سے آرہی ہے پانچ اگست 2019کے بھارتی اقدام پر جو خاموشی ہوئی اس کا مقابلہ صرف وہ کر سکتا تھا مگر نہ ہوتے بھی آج اپنے 8ویں یوم وفات پر وہ سرخرو نظر آتا ہے گلگت میں آسودہ خاک آج آزادی کی شناخت میں نمایاں ترین ہے میرے نقطہ نظر سے
زندگی کا دوسرا نام اگر افسوس لکھا جائے تو شاہد غلط نہ ہو چند سال قبل ہی کی بات ہے کہ سر راہ چلتے ہوئے پر وفیسر سیّد حسین خاموش نے نرم زبان میں مخاطب کر کے کہا کہ آﺅ قہوہ پی لیں میں نے انکار کرلیا لیکن کچھ ہی دیر بعد یہ محسوس ہونے لگا کہ کوئی بڑی غلطی کرلی چند روز بعد سید حسین خاموش واقعی خاموش ہو گے۔وہ اب دُنیا میں نہیں رہے وہ دکھ اس وقت تازہ ہو چلا تھاجب 26اپریل 2016 کو اطلاع ملی تھی کہ قائدتحریک امان صاحب انتقال کر گئے ۔ان کی موت سے چند روز قبل واٹس اپ پر جب ان کی علالت کی تصویر دیکھی تو ترس بھی آیا اور اپنے آپ پر افسوس بھی ہو ا دل سے دعا نکلی لیکن :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ان کی زندگی میںانہونی کرنا پڑی انہونی یہ تھی کہ کسی کی تعریف و توصیف کرنا پڑی اور یہ دعویٰ جھوٹ ثابت کرنا پڑا کہ دنیا سے جانے کے بعد ہی تعریف کی جاتی ہے۔وہ ایک ایسا شخص تھا جس کے لیے ایک تحریر کیا پوری کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔اُسی وقت وہ مرے جب ان کی موت کا وقت مقررتھا۔ دعا زندگی میں اضافہ نہیں کرسکتی تھی لیکن دعا بیماری کو صحت میں بدل سکتی تھی وہ بھی قبول نہ ہوئی۔ نصف صدی قبل انہوں نے بابائے قوم  مقبول بٹ کے ساتھ مل کر مادر وطن جموں کشمیر کی آزادی اور وحدت کی بحالی کا حلف اُٹھا یا ان کی حکمت عملی سے اختلاف اپنی جگہ لیکن انہوںنے ہی تحریک کو زندہ رکھا بلا شبہ انکی زات ہی قائدتحریک کہلانے کی حقدار ہے ۔47کی تقسیم کے بعد آر پار کے سیاست دان کشمیر کی آزادی کو بھول بیٹھے تھے سید علی گیلانی بھی الحاق ہندوستان کا حلف اُٹھا کر سری نگر اسمبلی سے اسی طرح قائدحزب اختلاف بن کر مفاد اٹھا رہے تھے ۔جس طرح قائد ا یوان بن کر فاروق عبداللہ مفاد لے رہے تھے ۔ سید صلاح الدین بھی اسی طرح سری نگر کی اسمبلی میں جانا چا رہے تھے۔ جس طرح مغا لطے کا شکار آزاد کشمیر کے چند قوم پرست مظفرآباد اسمبلی جانا چاہتے ہیں ۔پر و فیسر عبدالغنی بھٹ بھارتی سرکار کی نوکری کررہے تھے۔تو دوسری طرف آزاد کشمیر کے سب سیاست کار مکمل بے خبر تھے ایسے میں اشفاق مجید وانی عبدالحمید شیخ اعجاز ڈار مقبول علٰائی ارشد کول ہمایوں آزاد ، یسین ملک، جاوید میر جاوید جہانگیر  کو ہاتھوں میں بندوق دے کر لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بھارت کے خلاف اس نے آزادی کی جنگ شروع کروائی ڈیڑھ سال وہ اکیلے میدان میں رہے۔پھر اس جہاد کو دہشت گردی قرار دینے والے” قائد جہاد ” بن چلے بھارت نے ان کی گرفتاری کے لیے انٹر پول کے ذریعے ورانٹ نکلوا رکھے تھے تو اسلام آباد نے بھی ای سی ایل پر نام درج کر رکھا تھا۔ اس پابندی کے باعث زندگی کے آخری پچیس سال وہ پاکستان سے باہر نہ جا سکے جس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ عالمی دنیا کو مسئلہ کشمیر کی اصل روح سے شناسائی نہ ہو سکی ان پر پاکستان کا ایجنٹ ہونے کا بھی الزام لگایا گیا لیکن جب ان کا جسد خاکی پاکستان کے شہر راولپنڈی میں نماز جنازہ کے لیے موجود تھا وہاں اس دینی فرض سے بھی عہدہ براہ ہونے آفیسران اور حکومتی اہلکاران تو دُور کی بات کسی ریٹائرڈ آفیسر نے بھی شرکت نہ کی سیاسی قیادت تو کیا عام سیاسی کارکن نے بھی شرکت نہ کی ان سے اسلام آباد کی” محبت“ کا یہ عالم تھا کہ جب وہ 92میں سیز فائر لائن مٹانے کارواں لے کر نکلے تو ان کے سات کارکن شہید کر دیے گئے ان کے لیے ہی شاعر نے کہا تھا ۔۔۔۔ذاہد تنگ نظرنے مجھے کافر جانا۔۔۔۔اور کافر یہ سمجھتا رہا کہ میں مسلمان آج۔۔۔۔۔۔ جب امان صاحب کی تنظیم پر بھارت پابندی لگا چکا مجھے قائد تحریک کی دور اندیشی یاد آ تی ہے جب 95میں  یسین ملک کے بھارت کے ساتھ یکطرفہ سیز فائر کے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے شبیر صدیقی اور بشارت رضاءجیسے عظیم انقلابی حریت پسندوں کی سرپرستی کی ان کے ہاتھ میں یسین ملک کے جگری یاروں اشفاق مجید وانی اور حمید شیخ کے ہاتھوں والی بندوق تھمائی بندوق کی جگہ زیتون کے پتے کو شناخت بنا کر جو نئی جدو جہد ہوئی آج جب جے کے ایل ایف ممنوعہ قرار دی جا چکی تو ثابت ہوا کہ قائد تحریک کا موقف درست تھا زیتو ن کے پتے کو اپنا کر کی جا نے وا لی جدوجہد غلط تھی 14فروری کو 2019عادل ڈار نے پلوامہ میں فدائی حملہ کر کہ اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ بھارت کے خلاف صرف بندوق ضروری ہے اور یسین ملک کی گرفتاری کے ساتھ جے کے ایل ایف پر پابندی نے قائد تحریک کی بصیرت کو پھر دنیا کے سامنے سچا ثابت کر دکھایا وہ اسلا م آبا د کو کتنے   ” پسند” تھے اس کے لئے ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ان کے لکھے لٹریچر پر بھا رتی مقبوضہ جموں کشمیر جا نے پر پا بندی لگا ئی گئی ورنہ اسلحہ کے سا تھ جا نے وا لا یہ لٹر یچر آج سارے کشمیر کو حقیقی آزا دی کے مفہوم سے آشنا کر چکا ہو تا وہ ایسا انقلا بی تھا کہ جس کا جنا زہ لے جا نے بھی اس کے ورثا ءنے سر کا ری ہیلی کا پٹراستعما ل کر نے انکا ر کر دیا اس کے جنا زے کو نہ مسلم کا نفرنس کے سپر یم ہیڈ مر حو م عبدا لقیوم خان صا حب کی طر ح نہ پا کستا ن کی فو ج نے سلا می دی نہ اسلا م آباد کا چیف آف آرمی سٹا ف تعزیت کے لئے ان کے گھر آیا لیکن پھربھی کہیں” سیا نے” ان کو پا کستا ن کا ایجنٹ قرار ایتے نہیں تھکتے ان کی عقل پر ما تم نہ کروں تو کیا کروں ؟میں ان کا اس لیے بھی قصیدہ خواں ہوں کہ انہو ںنے ہمیشہ مجھے اپنے بیٹوں جیسی حیثیت دی ان کی رحلت سے  دس برس قبل میں پہلا فرد تھا جس نے ان کے آگے مدعا رکھا کہ یاسین ملک سے اتحاد نا گزیر ہے۔آخر وہ وقت بھی آیا جب یہ اتحاد ہوا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے بعد اپنے دفتر چاندنی چوک راولپنڈی میں اپنے بہت سارے” لیڈروں”کی موجودگی میں سب سے زیادہ احترام مجھے دیا وہ سب بھی حیران رہ گے صر ف اگر اس محبت کے ایک واقعہ کو ہی لیا جائے تو میں شاہد پو ری زندگی اس کا بدلہ نہ اتار سکوں ۔آج وہ شخص دنیا میں نہیں ۔ان کی اولاد صر ف ایک بیٹی ہے۔ انہوں نے وحدت وطن کی خاطر اس کی ڈولی بھی وادی بھجوائی چند سال قبل حالات کا خطرہ دیکھ کر یہ وصیت بھی کر ڈالی ۔ کہ جب میں مروں تو مجھے گلگت دفن کرنا تا کہ میر ی قبر ہی وحدت کا ثبوت بنے ۔ انہیں کیا دکھ تھے اور کیا ارمان یہ تو انہیں ہی معلو م تھا معلوم ہو گا ہاں مجھے ایک بات کا پتہ ہے کہ انہیںاس بات کا بہت دکھ تھا کہ صغیر خان ان کے قافلے کا حصہ نہیں رہا یہ دکھ بھی مٹ سکتا تھااب بھی ان کی پیروکاری کے دعوے دار بلخصوص مقبول منزل والی قیا دت اور اس کاسری نگر سے راولپنڈی آ کر مقیم ترجمان اگر پرانے آئین کو بحال کر دیں تو یہ جڑت خان صاحب کی روح کو سکون دے سکتی ہے وہ جیسا بھی تھاجو بھی تھا مقبول بٹ کی قربانی کے بعد وہی بڑا نام ہے جو آزادی کی شناخت بنے ہے آج وہ دعاﺅں کا محتاج ہے جو زندگی کی زیادہ سے زیادہ راتیں دن کی طرح آزادی کے حصول کے لیے جاگتارہا آج اس کی قوم اس کے لیے دعا بھی نہ کر سکے یہ ایک سانحہ ہو گا ہر کشمیری سے بس اتنی گزارش کہ اس کے لیے   خلو ص سے یہ دعا کی جائے کہ خدا انہیں عذاب قبرسے بچائے ہمیں انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے انکی قوم کو وہ شناخت جلد ملے جس کے لیے وہ پوری زندگی کوشاں رہے۔آج جب ان کی اٹھویں برسی منائی جا رہی ہے مجھے دکھ ان کی جدائی کا نہیں نا ان کی موت سے ہونے والے خلاءکا ہے دکھ یہ ہے کہ ان کے نام لیواﺅں اور پیروکاروں میں ایسے عناصر بھی ہیں جو تنخواہ بھی لیتے ہیں وظیفے بھی اور آزادی اور جے کے ایل ایف کے نام پر چندہ بھی کھانا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ نا جانے ان کی روح کو ایسا کر کے دکھ دے کر کون سی وفا نبھائی جا رہی ہے۔ ہمیں انکی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا اب جب وہ نہیں پھر ادراک ہو ا کہ وہ گوہر نایاب تھا ۔
عجب آزاد مرد تھا، خدا مغفرت کرے

About the author /


Related Articles

Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Newsletter