بوٹوکس کروانے کے بعد میرا چہرہ بگڑ گیا تھا: بشریٰ انصاری

پاکستانی معروف فنکارہ بشریٰ انصاری نے انکشاف کیا ہے کہ بوٹوکس کروانے کے بعد میرا چہرہ بگڑ گیا تھا۔

بشریٰ انصاری اپنی شخصیت کو تروتازہ اور جوان رکھنے کے لیے کی جانے والی کاسمیٹک سرجریز سے متعلق بھی اکثر اپنے مداحوں کو آگاہ کرتی رہتی ہیں۔

حال ہی میں سینئر اداکارہ نے اپنے وی لاگ میں کئی برس قبل کروائے گئے ناکام بوٹوکس کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض ڈاکٹرز کاسمیٹک سرجری کے بعد ضروری احتیاطی تدابیر کے بارے میں مریضوں کو مناسب رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔

بشریٰ انصاری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو کاسمیٹک سرجری کے بعد کی احتیاطی تدابیر تفصیل سے سمجھانی چاہئیں، کیونکہ میرا ایک مرتبہ بوٹوکس کا تجربہ درست ثابت نہیں ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نے مجھے پروسیجر کے بعد کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں نہیں بتایا تھا، جس کے باعث میں بوٹوکس کروانے کے بعد اسی جانب کروٹ لے کر سو گئی، 5 سے 6 روز بعد میرے چہرے کی وہ جانب بری طرح نیچے کی طرف جھک گئی۔

سینئر اداکارہ نے بتایا کہ میری آنکھوں میں گرد و غبار جانے لگا اور میرے ہونٹوں کی ساخت بھی تبدیل ہو گئی، میں خوف زدہ ہو گئی کہ کہیں مجھے چہرے پر فالج تو نہیں ہو گیا۔

بشریٰ انصاری کے مطابق میں نے اس صورتِ حال کے بعد ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی علامات سے آگاہ کیا، تاہم ڈاکٹر نے میرے خدشات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ محض میرا وہم ہے اور مجھے کچھ نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک دوسرے ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ بوٹوکس اپنی مقررہ جگہ سے ہٹ گیا تھا۔

بشریٰ انصاری کے مطابق مجھے سب سے زیادہ غصہ اس بات پر آتا ہے کہ بعض ڈاکٹر اپنی غلطی درست کرنے کے بجائے مریضوں پر غیر ضروری ڈرامہ کرنے کا الزام لگا دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو واضح طور پر بتائیں کہ طریقہ علاج میں کیا خرابی ہوئی اور اس کے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں