اسرائیلی انتخابات آج، نیتن یاہو اور آئزن کوٹ آمنے سامنے، سخت مقابلہ متوقع، کنیسٹ کی 120 نشستوں کیلئے 73 لاکھ شہری حق رائے دہی استعمال کرینگے، حکومت کیلئے کم از کم 61 نشستیں درکار، بیرونِ ملک سہولت نہ ہونے پر 33 ہزار سے زائد اسرائیلی ووٹ دینے وطن پہنچ گئے، انتخابات پر 1.3 ارب ڈالر خرچہ، 7 اکتوبر حملے، غزہ و ایران جنگ انتخابی مہم پر نمایاں، معیشت استحکام نیتن یاہو کیلئے مثبت پہلو، دفاعی اخراجات دگنے، قبل از وقت تحلیل اسرائیلی جمہوری نظام کی نمایاں خصوصیت، 1973 کے بعد یہ پہلی حکومت ہے جس نے مدت پوری کی، نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے 2022 میں 32 نشستیں حاصل کی تھیں، نتائج 4 نومبر کو یا آس پاس جاری ہونگے۔ اسرائیل کے تقریباً 73 لاکھ شہری آج بروز منگل، 2026 کے عام انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان انتخابات میں اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کے 26ویں ایوان کے تمام 120 ارکان منتخب کیے جائیں گے، جو ملک میں 38ویں حکومتی اتحاد کی تشکیل کی راہ ہموار کریں گے۔ یہ نیا حکومتی اتحاد موجودہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت کی جگہ لے گا۔ ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق انتخابات کے انعقاد پر اسرائیل کو 1.3 ارب امریکی ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے۔ 15 اکتوبر کو بیرونِ ملک ووٹنگ کے لیے 99 اسرائیلی سفارتی مشنز میں 101 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جہاں ریاستی نمائندوں اور ان کے اہلِ خانہ کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ اس عمل سے بیرونِ ملک خدمات انجام دینے والے 4,800 ریاستی نمائندوں اور ان کے اہلِ خانہ نے فائدہ اٹھایا۔ ان انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 86 فیصد رہا، جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ چونکہ اسرائیلی قانون عام شہریوں کو بیرونِ ملک سفارت خانوں میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا اور ووٹ ڈالنے کے لیے ذاتی طور پر اسرائیل پہنچنا ضروری ہے، اس لیے اطلاعات کے مطابق 33 ہزار سے زائد اسرائیلی شہری ووٹ ڈالنے کے لیے دنیا کے مختلف شہروں سے خصوصی پروازوں کے ذریعے اپنے وطن واپس پہنچے ہیں۔
اسرائیلی انتخابات آج، نیتن یاہو اور آئزن کوٹ آمنے سامنے، سخت مقابلہ متوقع
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




