ہم وہ عجیب الخلقت مخلوق ہیں جو خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہوئے فخر سے پھول جاتی ہے، مگر اپنے اعمال کا آئینہ دیکھنے سے گھبراتی ہے۔ زبان پر تہذیب، چہرے پر شرافت اور باطن میں وحشت کا الاؤ دہک رہا ہوتا ہے۔ ہم نے درندگی کو بھی مہذب بنانے کا فن سیکھ لیا ہے۔ اب ظلم کیلئے پنجے نہیں، دلائل درکار ہوتے ہیں؛ خون بہانے کیلئے خنجر نہیں، اختیار کافی ہوتا ہے۔ یہی ہماری تہذیب کا سب سے بھیانک المیہ ہے۔
ہم نے عدالتیں تعمیر کیں، قانون کی کتابیں لکھیں، اخلاقیات کے درس دیئے اور مذہب کے نام پر منبر آباد کیے، مگر انصاف کو طاقت کی لونڈی، قانون کو مصلحت کا غلام اور مذہب کو کاروبار بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہاں اُصول وہی معتبر ہے جو مفاد کے ترازو میں پورا اُترے۔ ظالم کی حیثیت، دولت اور عہدہ اُسکے گناہوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں، جبکہ مظلوم اپنی بے گناہی ثابت کرتے کرتے زندگی ہار جاتا ہے۔ واہ رے اِنسان، تیری مہذب درندگی!
یہ درندے کسی جنگل کے باسی نہیں، ہمارے ایوانوں، عدالتوں، تعلیمی اداروں، بازاروں اور عبادت گاہوں میں پائے جاتے ہیں۔ کوئی علم کے پردے میں جہالت بانٹتا ہے، کوئی مذہب کی آڑ میں نفرت بیچتا ہے، کوئی قانون کی زبان بول کر انصاف کا گلا گھونٹتا ہے۔ ان کے نزدیک ضمیر بھی قابلِ فروخت ہے اور وفاداری بھی۔ سچ کی قیمت لگتی ہے، اُصولوں کی بولی لگتی ہے، حتیٰ کہ انسانیت بھی منڈی میں پڑی اپنی باری کا انتظار کرتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ قاتل موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ قاتلوں کے وکیل بھی ہم ہیں، اُنکے مداح بھی ہم، اور اُنکے محافظ بھی ہم۔ مقتول کی لاش سے سوال کیے جاتے ہیں، اُسکے کردار کی چھان بین ہوتی ہے، اُسکی خاموشی کو اعتراف اور چیخ کو الزام سمجھا جاتا ہے۔ دُوسری طرف ظالم کی تقریر پر تالیاں بجتی ہیں۔ جب ظلم کو پالیسی اور ناانصافی کو حکمتِ عملی کہا جانے لگے تو سمجھ لیجیے کہ معاشرے کی اخلاقی موت کا اعلان ہو چکا ہے۔
ہم نے انسانیت کو ایک خوبصورت نعرۂ بنا کر دیواروں پر لکھ دیا ہے، مگر اپنے کردار سے مٹا دیا ہے۔ کتابوں میں اخلاقیات پڑھاتے ہیں، زندگی میں مفاد پرستی سکھاتے ہیں۔ بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں، پھر انہی کے سامنے جھوٹ کے ذریعے اپنا کام نکالتے ہیں۔ دیانت داری پر تقریریں کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی رشوت کو مٹھائی کا نام دے دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کامیاب آدمی کی پہچان اُسکا کردار نہیں، اُسکی پہنچ، دولت اور دُوسروں کو استعمال کرنیکی صلاحیت ہے۔
یہ مہذب درندہ کبھی بیٹی کے خواب کچلتا ہے، کبھی بوڑھے والدین کو بوجھ سمجھ کر گھر سے نکالتا ہے، کبھی مزدور کی اجرت دبا لیتا ہے، کبھی یتیم کے حصے پر قبضہ جما لیتا ہے۔ ظلم کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر ظالم کی نفسیات وہی رہتی ہے۔ وہ پہلے کسی کا حق مارتا ہے، پھر اپنے فعل کے حق میں دلیل گھڑتا ہے، اور آخر میں خود کو مظلوم ثابت کرنے لگتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس سارے تماشے میں اُسے اپنی شرافت پر پورا یقین ہوتا ہے۔
اس درندے کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اسکی شناخت کسی مخصوص لباس، منصب یا طبقے سے نہیں ہوتی۔ وہ وردی میں بھی ہو سکتا ہے، ٹائی میں بھی، عمامے میں بھی اور عام آدمی کے سادہ لباس میں بھی۔ مسئلہ لباس نہیں، وہ ذہنیت ہے جو اختیار کو خدمت کے بجائے تسلط کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ جو کمزور کو انسان نہیں، شکار سمجھتی ہے۔ جو اپنے لیے قانون میں رعایت اور دُوسروں کیلئے قانون کی پوری شدت چاہتی ہے۔ یہی دوہرا معیار معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس اجتماعی درندگی کا علاج کیا ہے؟ کسی انقلاب کے نعرے میں نہیں، کسی نئے قانون کی نمائش میں نہیں، کسی مقدس تقریر کے شور میں نہیں؛ اس کا آغاز اپنے گریبان سے ہوتا ہے۔ آدمی اپنے مفاد کیخلاف سچ بولنے کی ہمت کرے، اپنے اختیار کو امانت سمجھے، کمزور کا حق ادا کرے اور اپنے جرم کیلئے بہانے تراشنا چھوڑ دے۔ یہ راستہ آسان نہیں، کیونکہ ضمیر کی عدالت میں سفارش نہیں چلتی۔ وہاں منصب، دولت اور تعلقات نہیں، صرف عمل گواہی دیتا ہے۔
یاد رکھیے، تہذیب مہنگے لباس، شائستہ گفتگو، بڑی عمارتوں اور ترقی کے بلند بانگ دعوؤں کا نام نہیں؛ تہذیب اس لمحے پہچانی جاتی ہے جب طاقتور کے سامنے کمزور کا حق بچایا جائے۔ جب سچ بولنے والے کو پاگل اور جھوٹ بولنے والے کو رہنما نہ بنایا جائے۔ جب ظلم دیکھ کر خاموش رہنا دانشمندی نہیں، بزدلی سمجھا جائے۔ ورنہ ہم سانس لیتے انسان تو رہیں گے، انسانیت سے محروم۔ اور جس دِن ضمیر کی آخری شمع بھی بجھ گئی، ہماری ساری تہذیب ایک خوبصورت کفن کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔




