بلوچستان۔۔۔ہمارے غیر پروفیشنل رویّوں کا عوام پر اثر تحریر : نذر حافی

“مجھے نہیں پتہ” یا مجھے علم نہیں یہ کہہ کر اپنی ذِمَّہ داریوں سے جان چھڑوانا یہ کوئی پروفیشنل رویہ نہیں۔بلوچستان میں جیش العدل کے ٹھکانوں پر ایرانی حملے نے ایک مرتبہ پھر سارے پاکستانیوں کو متحد کر دیا ہے۔پاکستان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری اداروں کی طرف سے اپنی ذمہ داریوں کو قبول کیا جائے اور انہیں نبھایا جائے۔
ویسے عام پاکستانیوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ 16 جنوری 2024ء کو جس وقت بلوچستان میں جیش العدل کے ٹھکانے نشانہ بنے عین اُس وقت بلوچستان کے باسیوں کا ، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا جاری تھا۔ یہ بھی ریکارڈ میں رہے کہ اسی بلوچستان کے تفتان بارڈر پر بےچارے تھکے ہارے مسافروں کو ذلیل کرنے کیلئے تو ہماری سرکار نے ایک صوفی صاحب اور ان کے ہمنواوں کو کئی سال سے بٹھا رکھا ہے، یہ سرکاری اہلکار پاکستانی مسافروں کو جی بھر کر رسو اکرتے ہیں۔ سچ ہے کہ ہمارا سارا زور اپنے ہی غریب اور بے چارے مفلس عوام پر چلتا ہے۔ایران نے پاکستان کے اندر آکر کاروائی کر دی اور ہمارے اداروں کا بیانیہ یہ ہے کہ ہمیں اس کارروائی کا علم نہیں تھا۔
جس ملک کی سیکورٹی اتنی سخت ہے کہ سیاستدانوں کے ٹیلی فون تک ریکارڈ ہوتے ہیں، اس میں سائبر کرائمز اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ سٹیزن پورٹل کی حقیقت ایک جھنجنے یا لولی پاپ سے زیادہ نہیں۔ فیک آئی ڈیز کے ذریعے اور طرح طرح کے سائبر ہتھکنڈوں سے جگہ جگہ عام شہریوں کو لوٹا جا رہا ہے لیکن متعلقہ ادارے لاعلم ہیں ۔سٹیزن پورٹل کو بھی پتہ ہے کہ تفتان بارڈر پر موجود صوفی صاحب ایک معصوم صفت آدمی ہیں اور شکایات لگانے والے مسافر خواہ مخواہ بکواس کر رہے ہیں۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ بھینسیں ، بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ۲۲ دسمبر ۲۰۲۳ کو اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا اور ۲۳جنوری ۲۰۲۴ کو دھرنے کی قیادت کرنے والی ماہ رنگ بلوچ نے اس پیغام کے ساتھ دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیا کہ یہاں سے جو نفرت کا پیغام دیا گیا، وہ پیغام ہم بلوچستان لے کر جائیں گے، ہم یہاں سے نفرت کا پیغام لے کر جا رہے ہیں، ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کچھ یاد رکھا جائے گا۔ ۔۔ ہم ریاست کے خلاف نہیں، ریاست ہمارے خلاف ہے۔۔۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا تو ختم ہو گیا لیکن کیا بحثیت قوم اسلام آباد میں آنے والے اپنے بلوچ مہمانوں کو ہم مطمئن کر سکے ؟ کیا ہم انہیں یہ اطمینان دلا سکے کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور آپ کے مسائل صرف آپ کے مسائل نہیں بلکہ یہ ساری ریاست کے مسائل ہیں، اور ریاست مسائل کو حل کرنے میں آپ کے ساتھ ہے؟
گزشتہ سالوں میں دہشت گردوں نے پاکستان میں اسّی ہزار نہتّے انسان مار دئیے لیکن ہمارے ملکی اداروں کا بیانیہ یہی ہے کہ ہمیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، مدارس اور مسلک کا علم نہیں۔اسامہ بن لادن پاکستان میں قتل ہوا لیکن ہمارے سیکورٹی اداروں کا بیانیہ یہی رہا کہ ہم پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لا علم تھے۔گزشتہ کئی سالوں سے تفتان اور ریمدان بارڈر پر جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ قیامت تک ہمارے سیکورٹی اداروں کے علم میں نہیں آ سکتا۔ملکی بارڈروں پر سول شہریوں کے ساتھ بداخلاقی کوئی جرم ہی نہیں۔ بارڈر تو بارڈرہیں ملک کے اندر جو آئے روز گلگت و بلتستان کے مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن کبھی ہمارے اداروں نے یہ نہیں کہا ہے کہ قاتلوں کے ٹھکانوں اور مدارس و مسلک کا ہمیں علم ہے۔
اسی طرح پارہ چنار میں کتنے ہی برس سے مقامی سول لوگوں کا ہولوکاسٹ جاری ہے، اس حوالے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مذہب کا ملکی اداروں کو کچھ پتہ نہیں۔تفتان بارڈر پر ایک صوفی صاحب نے انت مچائی ہوئی ہے لیکن لمبے ہاتھوں کو کچھ علم نہیں کہ ان ہاتھوں کے نیچے کیا ہو رہا ہے؟
سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے واضح اور مطلوبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر میزائل داغنےکے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے تہران سے کہا کہ وہ اسلام آباد کو پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت کے بارے میں ہمیں معلومات فراہم کرے۔ یعنی ہم تو لاعلم ہیں آپ بتائیں۔
ماورائے عدالت لوگ لاپتہ اوراغوا۔۔۔ہم لا علم ہیں، سائبر کرائم کی بھرمار۔۔۔ہم لا علم ہیں، سانحہ ساہیوال ۔۔۔لاعلمی کی وجہ سے ہوا، سٹریٹ کرائم۔۔۔ہم لاعلم ہیں، ٹارگٹ کلنگ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں،تفتان و ریمدان بارڈر پر انسانی حقوق کی بدترین پامالی ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں،پارہ چنار میں سویلین کا ہولو کاسٹ ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، گلگت و بلتستان کے راستے میں مسافروں کا قتلِ عام ۔۔۔ہم لا علم ہیں، پورے ملک میں انسان کش کالعدم تنظیموں کی کارروائیاں اور شدت پسندی کو فروغ دینے والے مدرسوں کی موجودگی ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے لے کر انسانی اسمگلنگ تک سب کچھ۔۔۔ لیکن ہم لاعلم ہیں، ۔۔۔یہ لاعلمی ہر پاکستانی کے دکھ، غم، اور پریشانی کی اصل وجہ ہے۔
جب عوام کی سلامتی کے ذمہ دار ہی یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم لاعلم ہیں تو پھر عوام کی مایوسی اور ناامیدی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہم لاعلم ہیں کا دوسرا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ہم بے بس ہیں، اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔
جب ملکی ادارے یہ کہہ دیں تو پھر عوم کی چیخیں کس نے سُننی ہیں؟ ملک میں انواع و اقسام کی اسمگلنگ، لینڈ مافیاز اور جعلسازی و کرپشن کو کس نے روکنا ہے؟ سائبر کرائم کے سیلاب پر کس نے قابو پانا ہے اور ملکی بارڈروں پر عوام کے ساتھ ہونے والے توہین آمیز اور غیر انسانی سلوک کو کس نے روکنا ہے؟
بالاخر مسافروں کو تفتان بارڈر سے کب یہ اطلاع ملے گی کہ عوام کی توہین کرنے والے اہلکار اب سرکاری اداروں کے علم میں آگئے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ؟آخر کب تک لوگ یہی سُنتے رہیں گے کہ ہمیں تو علم نہیں اور ہم تو لا علم ہیں۔ کاش عوام کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کو یہ بات سمجھ آ جائے کہ اسلام آباد سے بلوچ عوام کی مایوسی سے مسائل بڑھیں گے اور جس طرح تفتان بارڈر پر عوام کو اذیت دینا، ذہنی ٹارچر کرنا اور ذلیل کرنا ایک غیر پروفیشنل رویہ ہے اُسی طرح ایسے رویّوں کے خلاف ایکشن نہ لینا بھی ایک غیر پروفیشنل برتاوہے۔ ہمارے غیر پروفیشنل رویّوں کے حق میں جتنے بھی دلائل لائے جائیں،ان سے عوام کو احساسِ تحفظ نہیں دلایا جا سکتا۔

About the author /


Related Articles

Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Newsletter