پاکستان کی سیاست میں اب تاریخیں بھی خبر بن گئی ہیں۔ 27 ستمبر کا احتجاج آیا نہیں، ملتوی ہوگیا، پھر 4 اکتوبر کی تاریخ سامنے آگئی۔ تحریک انصاف نے احتجاج مؤخر کیا تو وفاق کو وقتی انتظامی مہلت ضرور ملی، مگر سیاسی مسئلہ اپنی جگہ موجود رہا۔ کنٹینر، نفری، راستے اور سکیورٹی منصوبے اپنی جگہ، اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ سیاسی احتجاج اور آئینی بحران کو کہاں تک ایک دوسرے سے جوڑا جاسکتا ہے؟
وفاقی حکومت کی جانب سے ابتدا میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کے امکان کو خارج از امکان قرار دیا جاتا رہا، مگر چند ہی دن بعد وفاقی وزرا کی گفتگو میں ہنگامی حالت اور گورنر راج دونوں زیرِ بحث آگئے۔ وفاقی سطح پر یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ غیر معمولی اقدامات کا تعلق احتجاج سے زیادہ صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے ہے۔ یوں حکومتی بیانیہ بتدریج سخت ہوتا چلا گیا۔
اس معاملے میں پہلا سوال یہ نہیں کہ احتجاج کتنا بڑا ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ وفاق کون سا آئینی اختیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔ آئین کی دفعہ 232 ہنگامی حالت، دفعہ 234 آئینی مشینری کی ناکامی اور دفعہ 245 مسلح افواج کی سول انتظامیہ کو مدد سے متعلق ہے۔ تینوں دفعات الگ ہیں، ان کے مقاصد الگ ہیں اور انکی شرائط بھی الگ ہیں۔ آئین میں شارٹ کٹ نام کی کوئی چیز نہیں۔
دفعہ 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی کی صورت میں ہنگامی حالت کا راستہ موجود ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد داخلی بدامنی والی صورت میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط بھی اہم ہوجاتی ہے۔ صدر کے اعلان کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنیکا آئینی طریقہ بھی موجود ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی دعوؤں کے بجائے آئینی تشریح بنیادی حیثیت اختیار کرتی ہے۔
دفعہ 234 کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں بنیادی سوال دہشتگردی نہیں بلکہ آئینی مشینری کی ناکامی ہے۔ یعنی کیا صوبائی حکومت واقعی آئین کے مطابق چلائی نہیں جاسکتی؟ صرف یہ کہنا کہ صوبے میں دہشت گردی ہے، لازماً دفعہ 234 کے اطلاق کیلئے کافی نہیں۔ یہ بھی دکھانا ہوگا کہ صوبائی نظام اس حد تک مفلوج ہوچکا ہے کہ آئینی حکومت چلانا ممکن نہیں رہی۔ یہی اصل قانونی کسوٹی ہوگی۔
دفعہ 245 بھی اسی بحث میں اپنی الگ اہمیت رکھتی ہے۔ اسکے تحت وفاقی حکومت مسلح افواج کو سول انتظامیہ کی مدد کیلئے طلب کرسکتی ہے۔ یہ اختیار گورنر راج یا ہنگامی حالت سے مختلف ہے۔ فوج کی مدد لینا، صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھال لینا اور ایمرجنسی نافذ کرنا تین الگ آئینی راستے ہیں۔ انہیں ایک ہی تھیلے میں ڈال دینا سیاسی بیان تو ہوسکتا ہے، سنجیدہ آئینی بحث نہیں۔
چار اکتوبر کی رات گئے تک حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان مذاکرات جاری رہے، مگر طویل نشستوں کے باوجود کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہ ہوسکی۔ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے اور بالآخر مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے۔ حکومت احتجاج واپس لینے پر زور دیتی رہی، جبکہ تحریک انصاف اپنے مطالبات اور سیاسی دباؤ سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نظر نہیں آئی۔ یوں مذاکرات کا راستہ بھی فی الحال بند دکھائی دیتا ہے۔
تادمِ تحریر تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا آغاز کردیا ہے اور قافلے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔ یوں 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک کا سفر محض احتجاج کی تاریخ بدلنے کا سفر نہیں رہا، بلکہ سیاسی تصادم کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کی علامت بن گیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ مارچ آگے بڑھتا ہے یا مذاکرات کا کوئی نیا دروازہ دوبارہ کھلتا ہے۔
اگر دونوں فریقوں کے درمیان ڈیڈلاک برقرار رہتا ہے اور سیاسی کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو وفاق کے سامنے ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے غیر معمولی آئینی راستوں پر غور کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم محض لانگ مارچ، سیاسی اختلاف یا حکومت مخالف احتجاج اپنے آپ میں ان اختیارات کے استعمال کا خودکار جواز نہیں بنتا۔ ہر قدم کیلئے آئینی شرائط، شواہد اور قانونی بنیاد درکار ہوگی، ورنہ معاملہ عدالتوں تک پہنچ سکتا ہے۔
وفاق کے سامنے بیک وقت دو حقیقتیں ہیں: خیبر پختونخواہ میں دہشتگردی ایک حقیقی سلامتی کا مسئلہ ہے اور وہاں ایک منتخب حکومت بھی موجود ہے۔ اگر ڈیڈلاک برقرار رہتا ہے تو فیصلہ طاقت کے بجائے آئینی منطق سے ہونا چاہیے۔ وفاق کو اپنے ہر اقدام کی واضح آئینی بنیاد دینا ہوگی، جبکہ صوبائی حکومت کو امن و امان کی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ احتجاج کا حق اور شہریوں کا تحفظ، دونوں آئین کے دائرے میں ہیں۔



