امریکی افواج ایران کی سرحدوں سے 1 ہزار کلو میٹر دور چلی گئیں: ایرانی کمانڈر

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر ریئر ایڈمرل علی فدوی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج ایران کی سرحدوں سے 1 ہزار کلو میٹر دور پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ٹی وی انٹرویو میں علی فدوی نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورس کی طاقت کے باعث اپنی پوزیشن پیچھے کی ہے۔

علی فدوی کا کہنا ہے کہ پہلی بار خلیج، آبنائے ہرمز، بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند میں امریکی بحری جہاز موجود نہیں ہیں۔

ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جنگی جہاز پاسداران انقلاب کے مکمل نشانے پر ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کے کنٹرول میں ہے اور پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے امریکی نگرانی میں آبنائے کے جنوبی راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

علی فدوی کے مطابق اس راستے سے روزانہ صرف 30 سے 40 لاکھ بیرل تیل منتقل ہو رہا ہے، جو جنگ سے قبل کی ترسیل کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایرانی کمانڈر نے امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا افغانستان اور عراق میں ناکام رہا اور ایک بار پھر ناکام ہو گا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فوج نے جولائی سے اب تک 125 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا ہے تاکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ستمبر کے آخری ہفتے میں روزانہ اوسطاً 1 کروڑ 85 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں