امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ گزشتہ 2 روز سے جاری بات چیت کی تصدیق کی اور اسے نہایت مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی خبر کو خوشی کے ساتھ شیئر کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 2 دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری ہماری دشمنی کے مکمل اور حتمی حل کے حوالے سے نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو اگلے 5 دن کے لیے موخر کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ تفصیلی اور تعمیری مذاکرات ایک ہفتے کے تک جاری رہیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت کے انداز اور نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کیخلاف فوجی کارروائی اگلے 5 دن کےلیے ملتوی کردی جائے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران سے متعلق یہ فیصلہ جاری ملاقاتوں اور مذاکرات کی کامیابی سے مشروط کیا گیا ہے، اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے باعث تجارتی اوقات سے قبل ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گر گئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے 94 ڈالر آئی تاہم دوبارہ 97 ڈالر سے اوپر چلی گئی۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شام ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی، امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر ہرمز نہ کھولا گیا تو ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا اعلان آپریشن ایپک فیوری کے خاتمے سے متعلق بات چیت کی پہلی باقاعدہ تصدیق ہے۔











Post your comments