آبنائے ہرمز بند رہے گا، پہلے آڈیو پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای کا اعلان

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پہلا آڈیو پیغام جاری کردیا، اپنے پیغام میں کہا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گا، امریکی اڈے بند نہ ہوئے تو حملے جاری رہیں گے، ہم صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ ناگزیر طور پر جاری رکھیں گے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے شہدا خصوصا مناب اسکول کے شہدا کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہیں گے، عوامی یکجہتی سے دشمن کو شکست دیں گے۔

مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے، بصورتِ دیگر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی کشیدگی اور جنگ کو بڑھا رہی ہے اور اگر یہ اڈے برقرار رہے تو ان پر حملوں کا خطرہ موجود ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گا، میرا عہدہ مجھ سے کئی چیزوں کا  تقاضہ کر رہا ہے، ہمیں اپنے دشمن کو شکست دینی ہے۔

 انہوں نے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے دنیا کو دکھایا کہ ایرانی عظیم قوم ہیں، عوام کی حمایت کے بغیر میری کوئی اہمیت نہیں، دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے خلاف کارروائی کی حمایت کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جس نوعیت کی کارروائی میں سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید ہوئے ایسی ہی کارروائی اسرائیلی افواج کی قیادت میں مجتبیٰ کامنہ ای کے خلاف بھی کی جا سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ایران کی نئی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب سے خوش نہیں اور میرے مطابق ایران کا نیا رہنما پُرسکون زندگی نہیں گزار سکے گا۔

ایران کا جوابی وار، 24 گھنٹوں میں 179 اسرائیلی زخمی

واضح رہے کہ امریکی مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود یا مکمل طور پر ختم کرنا شامل بتایا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی چاہتا ہے، بصورت دیگر دباؤ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران کی مجلسِ خبرگان نے حالیہ کشیدگی اور جنگی حالات کے دوران آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا تھا، جس کے بعد خطے میں سیاسی تناؤ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *