پاسداران انقلاب کا امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے جس سے اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیان کے مطابق امریکی ایئر کرافٹ کو بحیرۂ عمان میں ایران کی سمندری حدود سے تقریباً 340 کلو میٹر کے فاصلے پر جدید میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

دریں اثناء ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ دنیا آج مختلف یوم القدس کا مشاہدہ کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ القدس کی آزادی قریب ہے، فتح آزادی کے متلاشیوں اور مظلوموں کی دسترس میں ہے۔

پاسدارانِ انقلاب گارڈز نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 44 ویں لہر آج صبح القدس کے شہداء کی یاد میں داغی گئی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا ہے کہ پانچواں امریکی بحری بیڑہ اور امریکی اڈے بابرکت رمضان المبارک کی تئیسویں صبح نشانہ بنائے گئے، مسلسل، جامع آپریشن میں میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران امریکا کے ایک فوجی طیارے KC-135  کے مغربی عراق میں گر کر تباہ ہونے کا تازہ ترین واقعہ پیش آیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی فوج کے مشرقِ وسطیٰ میں ذمے دار کمانڈ سینٹ کام نے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ یہ حادثہ کسی دشمن یا اتحادی کی فائرنگ کے باعث پیش نہیں آیا۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران ضائع ہونے والا یہ چوتھا امریکی فوجی طیارہ ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا، ابتدائی دنوں میں ایران کے طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں کویتی فورسز نے غلطی سے 3 امریکی F-15E طیارے مار گرائے تھے، تاہم ان طیاروں کے تمام 6 اہلکار بروقت ایجیکٹ ہو کر محفوظ رہے تھے۔

امریکی فضائیہ کے مطابق KC-135 طیارہ فضاء میں دیگر طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور عام طور پر اس میں 3 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جن میں پائلٹ، شریک پائلٹ اور ایندھن کی فراہمی کے نظام کو چلانے والا اہلکار شامل ہوتا ہے۔

بعض مشنز میں اس طیارے میں نیویگیٹر بھی موجود ہوتا ہے جبکہ یہ 37 مسافروں تک کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایران کی جانب سے کلسٹر بموں سے لیس بیلسٹک میزائلوں کے استعمال نے صورتِ حال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جب ایرانی میزائل فضا میں بلند مقام پر پہنچتے ہیں تو ان کے وار ہیڈ سے درجنوں چھوٹے بم الگ ہو کر بڑے علاقے میں بکھر جاتے ہیں، یہ چھوٹے بم رات کے آسمان میں نارنجی چمک دار ذرات کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں اور مختلف مقامات پر گر کر دھماکے کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران کے زیادہ تر بیلسٹک میزائل تقریباً 24 چھوٹے بم لے جا سکتے ہیں، جبکہ ایران کے طاقت ور خرمشہر میزائل میں 80 تک سب میونیشنز نصب کی جا سکتی ہیں، ہر بم میں تقریباً 11 پاؤنڈ دھماکا خیز مواد ہوتا ہے۔

تحقیقی جائزوں کے مطابق ایسے حملوں میں بم کئی میل کے علاقے میں بکھر جاتے ہیں اور گھروں، سڑکوں، کاروباری مراکز اور پارکوں پر جا گرتے ہیں، گزشتہ ہفتے تل ابیب کے نواح میں ایک بم کے دھماکے میں 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

روس کا ایران کو یوکرین پر ڈرون حملوں جیسی حکمتِ عملی اپنانے کا مشورہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ کلسٹر بم اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر امتیازی ہتھیار ہوتے ہیں، اسی لیے شہری آبادی والے علاقوں میں ان کے استعمال پر بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت پابندی عائد ہے، انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اس سے قبل بھی ایران کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے چکی ہے۔

اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق موجودہ جنگ میں ایران کی جانب سے فائر کیے گئے تقریباً نصف بیلسٹک میزائل کلسٹر میونیشنز سے لیس تھے، ان چھوٹے بموں کو روکنا اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ان کا سائز چھوٹا اور رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران اس حکمتِ عملی کے ذریعے ناصرف اسرائیلی دفاعی نظام کو چکمہ دینا چاہتا ہے بلکہ مہنگے میزائل انٹرسیپٹرز کو زیادہ استعمال کروانے کی کوشش بھی کر رہا ہے، جس سے اسرائیل پر معاشی اور نفسیاتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ میزائل حملے کے سائرن ختم ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں کیونکہ چھوٹے بم کچھ دیر بعد بھی زمین پر گر سکتے ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *