سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر پلوشہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔
قرارداد میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں اور اسرائیلی بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایوان نے اسرائیلی قیادت کی جانب سے علاقائی اتحاد بنانے کے بیان کو مسلم امہ کی وحدت کے خلاف قرار دیا۔
قرارداد کے متن کے مطابق اسرائیل کا طرزِ عمل بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا گیا ہے۔
سینیٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے پھیلاؤ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اسلامی ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جائے گی۔
ایوان نے اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلا اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ نے غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل کے جلد آغاز پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔













Post your comments