سیکریٹری پیٹرولیم حامد یعقوب شیخ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی۔
سینیٹر منظور احمد کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں حامد یعقوب شیخ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے 70 فیصد پیٹرول آتا ہے، عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دنوں میں مل جاتا ہے اور وہاں سے اس وقت جہازوں کی آمد و رفت بند ہے۔
سیکریٹری پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 187 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی جبکہ پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 130 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
سینیٹر منظور احمد نے اس موقعے پر کہا ہے کہ ملک میں 28 دنوں کے ذخائر موجود تھے تو ریٹ کو بڑھایا گیا اور سارا فائدہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پہنچایا گیا ہے۔
سیکریٹری پیٹرولیم نے کہا ہے کہ اس عمل سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدہ نہیں ہوا ہے، قیمتوں میں اضافہ پیٹرولیم کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے اپنایا گیا ہے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافے سے درآمدات جاری رکھیں اور اس اقدام سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔
اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللّٰہ نے سوال پوچھا کہ یہ بتائیں کہ 7 مارچ سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کیا تھی اور اس میں کتنا اضافہ ہوا؟
جس کے جواب میں اوگرا حکام نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں 100 فیصد جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 70 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
سیکریٹری پیٹرولیم نے اجلاس میں بتایا ہے کہ موٹرسائیکل اور رکشے کو ریلیف دینے کے لیے حکومت پیکیج پر کام کر رہی ہے اور کوشش کر رہے ہیں کے موجودہ ذخائر کے استعمال کو بڑھا دیا جائے اور اب یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم کی طرف سے قائم وزارتی کمیٹی روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی صورتِ حال کا جائزہ لیتی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم پیٹرول کی دستیابی ملک بھر میں ہے۔
سیکریٹری پیٹرولیم نے ملک میں تیل کے ذخائر کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں خام تیل کی ذخائر 11 دنوں کے لیے، ڈیزل کے ذخائر 21 دنوں کے لیے اور پیٹرول ذخائر 27 دنوں کے لیے کافی ہیں جبکہ ایل پی جی 9 دن کے ذخائر دستیاب ہیں اور جے پی ون کے ذخائر 14 دنوں کے لیے موجود ہیں۔
سینیٹر منظور احمد کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس ہوا جس میں حکام نے بتایا ہے کہ ملک میں 14 اپریل کے بعد ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی۔
حکام نے کہا ہے کہ اس سال کے لیے ہم نے 2 کارگو فی ماہ مؤخر کروا دیے تھے، قطر سے 2 مارچ سے ایل این جی سپلائی مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔
حکام نے کہا کہ مارچ میں 8 کارگو آنے تھے جن میں سے 2 آئے، اپریل میں 6 کارگو آنے تھے، سوئی سدرن نے ایک فرٹیلائزر پلانٹ کو 50 فیصد گیس کی کٹوتی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کی سپلائی 300 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 130 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے، گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کی جائے گی، اپریل میں پاور سیکٹر کی گیس ضرورت پوری نہیں کر سکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر کی ضروریات دوسرے ذرائع سے پوری کی جائیں گی، آذربائیجان کی کمپنی سے ایل این جی خرید سکتے ہیں، اسپاٹ خریداری 24 ڈالرز تک ہو گی جبکہ قطر سے 9 ڈالرز پر گیس ملے گی، اس سے مہنگی بجلی پیدا ہو گی۔











Post your comments