عمر جلووں میں بسر ہو. تحریر ظفر محمد خان

جب میں نے انجینئرنگ مکمل نہیں کی تھی میں ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا اور میری اپنے سپروائزر سے جو کافی سینیئر تھا ہاتھا پائی والی لڑائی ہو گئی اور ایک اسٹیج ایسا ایا کہ میں نے اس کو دھاڑ  لگائی کہ تو میرے باپ کے برابر ہے ورنہ میں تجھے گاڑ  دیتا
خیر بات ائی گئی ہو گئی بعد میں دوستانہ بھی ہو گیا لیکن میں سوچتا تھا اس وقت بھی کہ میں نے اس کو کیوں نہیں مارا ۔ کیا واقعی اس لیے کہ وہ میرے باپ کے برابر تھا ۔ ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ تھی میں اس سے ڈر رہا تھا  کہ یہ مجھ سے زیادہ تگڑا ہے اگر اس نے مجھ پہ اٹیک کیا صحیح معنی میں تو یہ مجھے رگڑا دے گا الٹا اور پھر اس کے ساتھ اس کے گاؤں کے رہنے والے بہت سے لوگ بھی یہاں ملازم ہیں وہ اگلے دن مجھے نہیں چھوڑیں گے تو تیزی کے ساتھ میرے دماغ کے کمپیوٹر نے فیصلہ کیا کہ اس سے کس طرح جان چھڑایا جائے تو میں نے فورا اس سے اپنی بات کی عمر کا لیبل لگا کے جان بچائی
تو یہ ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو چاچا بڑے میاں ارے اپ تو بزرگ ہیں بڑھاپے میں کیا کر رہے ہیں جیسے  کلمات استعمال کیے جاتے ہیں تو اس کا اصل سبب نہ تو ان کی عزت افزائی ہوتی ہے نہ ان سے محبت بلکہ ان کی تحقیر ہوتی ہے ۔
میں مغربی دنیا کی مثال دینا نہیں چاہتا کہ ان کو یہاں پر تو کسی بھی عمر کا ہو ایک دوسرے سے نام لے کے بات کرتے ہیں اگر 20 سالہ لڑکی بھی کوئی مجھ سے بات کرے گی تو میرا نام لے کے بات کرے گی ۔ کیونکہ عمر یہاں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اپ اس وقت کیا کر رہے ہیں اور کیا کر سکتے ہیں ۔
کم سے کم ہندوستان اور پاکستان میں بڑھاپے کو ایک شدید مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا سبب والدین خود ہوتے ہیں کہ وہ 50 55 کے ہوتے ہیں اور اپنے اپ کو بوڑھا ثابت کرنے کے لیے پوری مہم چلا لیتے ہیں ۔ اچھے کپڑوں نئے فیشن اور دنیا داری کے دوسرے معاملات سے دوری اختیار کرنے لگتے ہیں کہ جی اب ہم نے کیا کرنا ہے بھائی اب تو سب بچوں کا ہے
اب ان کی محبت اور اخلاقی نوعیت پر تو میں بحث نہیں کر سکتا ہو سکتا ہے وہ ایسا سوچتے ہوں میرے اپنے والد بھی ایسا کرتے تھے اور دیگر والدین بھی میں نے ایسے ہی دیکھے لیکن یہ سب معاشرے کا دباؤ ہوتا ہے
 ایک بوڑھا شخص کیا ہوتا ہے
وہ دنیا بہت زیادہ دیکھ چکا ہوتا ہے لیکن اس کے اندر کے جذبات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے ایک 20 سالہ نوجوان کے ہوتے ہیں صرف وہ ان کو دنیا داری کی وجہ سے چھپا رہا ہوتا ہے اور اس چھپانے کی مہم میں وہ اور زیادہ کمزور دکھتا ہے ۔
میں نے زندگی کے 65 صحت مند برس مکمل کر لیے ہیں اگے کا اللہ جانتا ہے لیکن میں ایک لمحے کے لیے بھی خود کو کمزور محسوس نہیں کرتا شرارتیں ویسے ہی کلبلاتی ہیں اج بھی میرا دل چاہتا ہے مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے برابر  والے کو کمر سے دھکا لگاؤں تاکہ پوری صف  ایک دوسرے پہ گرتی چلی جائے ۔
چکنے  فرش پہ چلتے چلتے میرا بھی دل چاہتا ہے ایک جوتے پر زور لگا کے دوسرے جوتے سے پھسل کر لمبی سلپ ماروں ۔ اور ٹرائی بھی کرتا ہوں اور بعض اوقات بہتر نتیجہ بھی اتا ہے ۔
کسی پہاڑی پر لوگ چڑھ رہے ہوتے ہیں تو میں بھی پوری قوت سے ان سے اگے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
بچے فیشن کرتے ہیں تو میں بھی ان کے پیچھے چلتا ہوں میں بھی برانڈڈ  جوتے پہننا چاہتا ہوں میں بھی برانڈڈ جیکٹ پہنتا ہوں ۔ اور میرا بیٹا اگر چین پہنے سامنے اتا ہے تو میں کہتا ہوں میں نے بھی چین پہننی ہے
اخبارات میں اشتہارات ملازمتوں کے اچھے اتے تو میرا دل بھی چاہتا ہے کہ میں اس کے لیے اپلائی کروں یا کوئی اچھے انسٹیٹیوشن میں داخلے کی گنجائش ہوتی ہے تو میرا دل ابلتا ہے کہ میں بھی یہ تعلیم اسی کالج میں جا کے حاصل کروں ۔
لیکن کیونکہ زمانے کی قیود ہیں اس میں رہنا پڑتا ہے گو کہ مغربی معاشرے میں پڑھائی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے اور میں 45 سال کی عمر کا تھا جب مکگل  یونیورسٹی مانٹریال میں پوسٹ گریجویٹ  ڈپلومہ لیبر  ریلیشن میں کر رہا تھا ۔
مجھ سے کچھ بڑے پروفیسر شمس صاحب جو لندن میں رہتے ہیں انہوں نے ابھی حال ہی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا ہے اور بے حد مسرور  ہیں
اب سوچیے کہ ایسے لوگوں کو تحقیر کا نشانہ بناتے ہوئے بوڑھا بزرگ چاچا کیوں کہا جاتا ہے
شاید اس لیے کہ مقابلہتا جوان لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ موت کے زیادہ قریب ہیں ۔ تو ہم جب انہیں عمر کا طنہ دیں گے تو یہ گھبرا جائیں گے ڈر جائیں گے
اس کا عمومی سا  جواب تو یہی ہے کہ جوان بھی مرتے رہتے ہیں دل کے دورے سے سر وائو  کم ہی کر پاتے ہیں ایکسیڈنٹ بھی ہو جاتے ہیں لڑتے لڑتے بھی ہیں وغیرہ وغیرہ
لیکن اصل چیز یہ ہے کہ جیسے جیسے لوگ بڑھاپے کی طرف جاتے ہیں موت کا ڈر ختم ہوتا جاتا ہے ۔
اپ اپنی زندگی اتنی گزار چکے ہوتے ہیں کہ جو کامیابیاں سمیٹی ہوتی ہیں اس کی وجہ سے اپ کا دل خوش ہوتا ہے رعنایون سے بھرپور ہوتا ہے اور اپ سمجھتے ہیں کہ اپ ایک بہترین نسل تیار کر کے جا رہے ہیں یا اگر اپ پریشان حال رہے ہیں تو اپ نجات کو بہتر سمجھتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں
لیکن یہ بھی صرف نمبر کی باتیں ہیں اگر اپ اگلے دن کے بارے میں سوچیں تو اپ کے لیے یہ جذبہ بھی موجود نہیں رہتا اور اپ میں اور جوان میں کوئی فرق نہیں ہوتا
80 سال کے لگ بھگ ٹرمپ اور 90 سال کے لگ بھگ خامنائی کے درمیان جنگ ہوئی نا ۔ انہی بوڑھوں  میں سے کسی نے جیتنا ہے اور کسی نے ہارنا ہے اور کسی نے جشن منانا ہے اور کسی نے غم منانا ہے
لیکن اس جنگ کے دوران مرنا کٹنا کس نے ہے ۔۔ جوانوں کو
تو میری گزارشات کا مطلب یہ ہے کہ برصغیر میں جو زیادہ عمر کے لوگوں کو یہ طعنے کے طور پہ یا تحقیر کے طور پہ یا شرمندہ کرنے کے طور پہ یہ کہا جاتا ہے یہ بات اب ختم ہونی چاہیے کیونکہ اب عالمی دنیا میں بھی ایج  شیمنگ کلر شیمنگ زبان کی شیمنگ ایک گناہ تصور ہوتے ہیں اور اس پر ایف ائی ار درج کرائی جا سکتی ہے
جب اپ کسی سے بات کریں ہوں کوئی ادبی علمی سیاسی مذہبی بحث میں الجھے ہوں تو کہیں بھی اس کو عمر کی بنیاد  کے اوپر طنز کرتے ہوئے اپنے سے کمتر نہ جانے اس کی بات سنیں اپنی بات پیش کریں اپ کی بات اس سے بلند ہو سکتی ہے اس کی بات اپ سے کہیں بلند ہو سکتی ہے
مجھے معلوم ہے پاکستان میں ابھی یہ چیزیں عام ہونے میں ابھی کافی ٹائم لگے گا لیکن جس طرح دنیا گلوبل ولیج بن رہی ہے امید ہے اگلے 15 20 سالوں میں پاکستان میں بھی اس قسم کی تحقیر آمیز  گفتگو کم ہوتی جائے گی

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *