ہماری سب سے بڑی مہارت صبر ہے۔ بجلی غائب ہو تو صبر، پانی نہ آئے تو صبر، گیس کا پریشر کم ہو تو صبر، مہنگائی آسمان پر چڑھ جائے تو صبر۔ صبر اپنی جگہ نیک عمل ہے، مگر جب یہ اجتماعی بے عملی میں بدل جائے تو قومیں پیچھے دھکیل دی جاتی ہیں۔ زندہ قومیں مسائل کا حل ڈھونڈتی ہیں، ہم مسائل کو قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرتے ہیں۔ یہی رویہ ہمیں زندہ تو رکھتا ہے، مگر آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔
ہماری دوسری عادت یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا بوجھ دُوسروں پر ڈالنے میں کمال رکھتے ہیں۔ کبھی پچھلی حکومت، کبھی آنے والی حکومت، کبھی عالمی حالات۔ اپنی کوتاہی کا اعتراف کرنا ہمیں گراں گزرتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتی ہیں، ہم اپنی غلطیوں کو دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یہ رویہ وقتی سکون دیتا ہے، مگر اصلاح کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیتا ہے۔
قانون کے ساتھ ہمارا تعلق بھی نرالا ہے۔ سگنل توڑنا، ون وے میں داخل ہونا، غلط پارکنگ کرنا ہماری قومی روایت ہے۔ اور اگر کوئی روک لے تو ہم اسے سمجھاتے ہیں کہ ’’بھائی، ترقی میں رکاوٹ نہ بنو‘‘۔ زندہ قومیں قانون کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں، ہم قانون کو زنجیر تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے شہروں میں نظم و ضبط خواب ہے اور بدنظمی حقیقت۔
سوشل میڈیا پر ہم سب سے زیادہ زندہ نظر آتے ہیں۔ دُنیا کا کوئی مسئلہ ہو، ہم اپنی پوسٹ، اسٹیٹس اور ٹویٹ سے فوراً حل نکال لیتے ہیں۔ حقیقت میں عمل کرنے کی ضرورت نہیں، بس جذباتی تقریر اور غصے والا اسٹوری کافی ہے۔ زندہ قومیں سوشل میڈیا کو شعور اور عمل کے لیے استعمال کرتی ہیں، ہم اسے جذباتی ریلیز کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
صفائی کے معاملے میں بھی ہم زندہ قوم ہیں، مگر صرف اپنے گھر کے اندر۔ گلی، چوراہا، پارک اور نالہ ہماری ذمہ داری نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اِسی لیے بنی ہے کہ ہمارا کوڑا اُٹھائے۔ زندہ قومیں اپنے ماحول کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں، ہم اسے دُوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے شہر خوابوں میں خوبصورت ہیں، مگر حقیقت میں کوڑے کے ڈھیر میں بدلتے جا رہے ہیں۔
یہ سب رویئے ہمیں زندہ تو رکھتے ہیں، مگر جاگنے نہیں دیتے۔ ہم سانس لے رہے ہیں، مگر شعور کی سانس نہیں لے رہے۔ ہم چل رہے ہیں، مگر آگے نہیں بڑھ رہے۔ زندہ قومیں مشکلات کو مواقع میں بدلتی ہیں، ہم مشکلات کو قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرتے ہیں۔ یہی فرق ہمیں زندہ مگر سوئی ہوئی قوم بنا دیتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی زندہ قوم ہیں یا صرف زندہ لاشیں؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم جاگنے کا اِرادہ کر لیں تو زندہ قوم کہلائیں گے، ورنہ یہ نعرۂ صرف ایک خوش فہمی رہے گا۔ زندہ رہنے سے زیادہ ضروری جاگنا ہے، اور جاگنے کا وقت اب ہے۔











Post your comments