اٹلی کے وزیر داخلہ میٹیو پینٹے کا کہنا ہے کہ لیگل مائیگریشن کے لیے پاکستانی اسکلڈ لیبر کو ساڑھے 10ہزار ویزے فراہم کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے روم میں اطالوی ہم منصب میٹیو پینٹے ڈوسی سے ملاقات کی جس میں داخلی سیکیورٹی تعلقات اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اطالوی وزیر داخلہ نے کہا کہ لیگل مائیگریشن کے لیے پاکستانی اسکلڈ لیبر کو ساڑھے 10ہزار ویزے دیں گے جبکہ پاکستانی ڈپلومیٹک پاسپورٹ والوں کو ویزے سے استثنیٰ دیا جائے گا۔
میٹیو پینٹے ڈوسی کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے کچھ عرصہ قبل ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر ویزا استثنیٰ کی بات کی تھی۔
دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کی ملاقات میں انسداد منشیات و انسانی اسمگلنگ اور دہشتگردی کے خلاف تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں نے غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ روکنے کے اقدامات کو بھی سراہا۔
غیر قانونی امیگریشن کیخلاف پاکستان کی مؤثر پالیسی کی تعریف
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان میں ایئرپورٹس اور سمندری سرحدوں پر کڑی نگرانی سے غیر قانونی امیگریشن کم ہوئی۔
اطالوی وزیر داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستان کی مؤثر پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ غیرقانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، منشیات کےخلاف پاکستان کی کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیگل مائیگریشن کے فروغ کے لیے باہمی تعاون بڑھائیں گے، پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔
برطانیہ نے پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا درخواست آسان کر دی، شہری اب برطانیہ کے سفر کیلئے ای ویزا سسٹم استعمال کرسکیں گے۔
برطانوی ہائی کمیشن جین میریٹ کا کہنا ہے کہ سیاحت، کاروبار، فیملی وزٹ کیلئے پاسپورٹ پر ویزا اسٹیکر کی ضرورت ختم کردی گئی، ویزا درخواست بدستور آن لائن جمع ہوگی، بائیومیٹرکس کیلئے ویزا سینٹر جانا ہوگا۔
کامیاب درخواست گزاروں کو امیگریشن اسٹیٹس کی ڈیجیٹل تصدیق ای میل سے ملے گی، بائیومیٹرکس کے بعد پاسپورٹ لینے کیلئے ویزا سینٹر جانے کی ضرورت نہیں۔
برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ ای ویزا نظام سے دستاویزات کے ضائع یا خراب ہونے کے خدشات کم ہوں گے، درخواست گزار شیئر کوڈ کے ذریعے اپنی ویزا حیثیت ثابت کر سکیں گے، ویزا پراسیسنگ وقت، اہلیت اور شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
جین میریٹ کا کہنا ہے کہ نیا نظام پاکستانیوں کیلئے ویزا عمل کو آسان بنائے گا، درخواست گزار ایجنٹس کے بجائے براہ راست درخواست دیں، ای ویزا پہلے طلبہ اور ورک ویزا کیلئے متعارف کروایا جا چکا ہے، موجودہ اسٹیکر ویزا رکھنے والوں پر نئی تبدیلیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔













Post your comments