دُنیا آج ایک پیچیدہ دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، مفادات اور سیاسی حرص نے عالمی ماحول کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایران کی حالیہ جنگ نے اس کشیدگی کو نئی شدت دی ہے اور مشرق وسطیٰ سے جنوبی اور وسطی ایشیا تک اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ صرف خبریں پڑھنا کافی نہیں، بصیرت اور دوراندیشی کے بغیر اِس بحران کو سمجھنا ممکن نہیں۔
امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق کھیلتا ہے۔ وہ طاقت اور سیاست کے ذریعے دوست بناتا اور دشمن دباتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں توانائی اور تجارتی راستے اُس کی ترجیح ہیں، مگر یہی اقدامات کشیدگی بڑھاتے ہیں۔ کشیدگی پیدا کرنا اور پھر حل تجویز کرنا امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے، اور پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی کھیل میں بے خبری مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران کی جنگ خطے میں ایک نیا بحران ہے۔ اگر جنگ پھیلی، تو اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے؛ خلیج، ترکی اور جنوبی ایشیا بھی متاثر ہوں گے۔ عالمی مبصر کا ماننا ہے کہ سفارتی حل کے بغیر یہ بحران کسی بھی لمحے وسیع تر جنگ میں بدل سکتا ہے، اور یہ پاکستان کیلئے اس لیے بھی سنگین انتباہ ہے کیونکہ اُس نے سعودیہ سے بھی دفاعی معاہدہ کر رکھا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ منظرنامہ نہایت نازک ہے۔ ایران اور افغانستان کی سرحدیں، بھارت کے ساتھ کشیدگی، اور داخلی مسائل ہر طرف دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اگر جنگ شدت اختیار کرے تو سرحدیں غیر محفوظ، معیشت دباؤ میں اور تعلقات متاثر ہوں گے۔ حکمت اور دوراندیشی کے بغیر آگے بڑھنا تباہی ہے۔ پاکستان کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اُٹھانا ہوگا۔
افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ عنصر ہے۔ دہائیوں کی جنگ نے اسے سیاسی اور معاشی بحران میں دھکیل دیا۔ ایران کی جنگ کے اثرات اگر افغانستان تک پہنچیں تو سکیورٹی چیلنجز بڑھیں گے۔ مگر امن قائم رہا تو تجارتی اور سیاسی مواقع کھلیں گے۔ یہی توازن پاکستان کی خارجہ پالیسی کا فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔
چین کی اُبھرتی ہوئی طاقت امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ معاشی ترقی سے وہ عالمی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور ایشیا، افریقہ اور یورپ میں تزویراتی مقابلہ کر رہا ہے۔ امریکی اقدامات اسی مقابلے کا حصہ ہیں۔ پاکستان کو سمجھنا ہوگا: عالمی طاقتوں کے کھیل میں بے خبری مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
روس اور وسطی ایشیائی ریاستیں اس کشاکش میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ روس اپنی تاریخی اور عسکری حیثیت کے ساتھ موجود ہے، جبکہ قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان توانائی اور جغرافیہ کی وجہ سے توجہ کے مرکز ہیں۔ ایران کی جنگ بڑھ گئی تو پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے واضح انتباہ: غیر متوازن عناصر کی قیمت بھگتنا پڑ سکتی ہے۔
بھارت خطے میں بڑھتی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ تاریخی کشیدگی اور سرحدی جھگڑے اسے حساس بناتے ہیں۔ ایران کی جنگ کے اثرات جنوبی ایشیا تک پہنچیں تو طاقت کا توازن خطرناک ہو جائے گا۔ دفاعی اور سیاسی چالاکی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ پاکستان کو ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر، ہر قدم دانشمندی سے اٹھانا ہوگا۔
وقت آگیا ہے کہ پاکستان دانشمندانہ خارجہ پالیسی اپنائے۔ تعلقات مضبوط کریں، سفارت کاری کو ترجیح دیں اور داخلی استحکام پر توجہ مرکوز کریں۔ ایران کی جنگ، عالمی طاقتوں کی سیاست اور کشیدگی پاکستان کے مستقبل کو محدود کر رہی ہیں۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اُٹھانا اب ضرورت نہیں، بلکہ فریضہ ہے۔ قومی بصیرت اور حکمت کی آزمائش سب سے بڑی ہے۔











Post your comments