عالمی اسٹیج پر چوہدری کی چوہدراہٹ از قلم: نجیم شاہ

جمہوریت کا حسن ہمیشہ صبر اور ٹھہراؤ میں چھپا رہتا ہے، مگر اب عالمی اسٹیج پر ایک ایسا کردار نمودار ہوا ہے جسے نہ ٹھہرنا آتا ہے نہ برداشت کرنا۔ حالات سازگار ہوں تو چہرے پر مسکراہٹ چھا جاتی ہے، اور جیسے ہی منظر بدلتا ہے، جملے ایسے پھوٹ پڑتے ہیں جیسے ہر لفظ اپنی ہی دکان کھول لے۔ سننے والا مفہوم کے ساتھ ساتھ چھپا ہوا پناہ بھی ڈھونڈنے لگتا ہے، اور ہر ردعمل ایک چھوٹا دھماکہ بن جاتا ہے جو صورتحال کو فوری طور پر بدل دیتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ریگزاروں میں جاری کشمکش ابھی کسی حتمی انجام تک نہیں پہنچی۔ نہ کوئی جھنڈا مکمل طور پر لہرایا گیا، نہ کوئی میدان قطعی طور پر جیتا گیا۔ کچھ پرانے ساتھی خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں، جیسے امتحان کے دن موبائل بند کر دیا گیا ہو۔ ایسے میں وڈے چوہدری صاحب کا لہجہ بدلنا کوئی حیرت کی بات نہیں، کیونکہ جب نقشہ اپنی مرضی کے مطابق نہ بنے تو غصہ اور طنز ہر لفظ میں گھل جاتا ہے، اور ہر جملہ سننے والے کی عقل پر چھوٹا سا جھٹکا دیتا ہے۔
ادھر ایک تنگ آبی راہداری، جسے دُنیا کی معیشت کی نبض کہا جاتا ہے، ابھی تک مکمل روانی سے نہیں چل رہی۔ جب تک کشتیوں کی آمدورفت معمول پر نہیں آتی یا کسی ایک فریق کو واضح برتری حاصل نہیں ہوتی، تب تک بیانات کی لہریں اِسی طرح اُٹھتی رہیں گی۔ ہر نیا جملہ ایسے لگتا ہے جیسے بند دروازے پر ایک اور دستک — زور دار، بے صبر اور مسلسل۔ یہی بے قراری عالمی منظرنامے میں کشیدگی کا تسلسل پیدا کرتی ہے، اور ہر لفظ اپنی ہی روشنی میں خبردار کرتا ہے۔
چوہدری صاحب کی نگاہ یورپ کے ایک ایوان کی طرف اُٹھتی ہے، جہاں وہ اپنے ہم منصب سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتے ہیں۔ سیاسی اختلاف اتنا بڑھ جاتا ہے کہ گھریلو زندگی بھی زیرِ بحث آ جاتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ موصوف اپنی بیگم سے ڈرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی فیصلوں کا اصل مرکز کہیں اور ہے، اور ہر جملہ توازن کے بجائے فوراً ردعمل کی گونج پیدا کرتا ہے۔
بات ریت کے میدانوں تک پہنچتی ہے، جہاں ایک نوجوان اور بااثر خلیجی شہزادہ اپنے انداز میں معاملات آگے بڑھا رہا ہے۔ شہزادے کے لیے چوہدری صاحب کا لہجہ بیک وقت تعریف اور تنقید کا امتزاج لیے ہوتا ہے — تعلق کی گرمجوشی بھی، اور ایسے جملے بھی کہ سننے والا چونک اُٹھے۔ نرمی کے پردے کے پیچھے برتری اور طنز واضح رہتا ہے، اور ہر لفظ میں حکمت، خودپسندی اور چھپی ہوئی چالاکی کا امتزاج محسوس ہوتا ہے۔
اِسی طرح نیٹو جیسے پرانے اتحاد بھی گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کبھی ایک مضبوط عسکری بندوبست کو محض کاغذی شیر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، تو کبھی سمندروں کے رکھوالوں کی صلاحیت پر سوال اُٹھا دیا جاتا ہے۔ برطانوی بحریہ کا ذکر آئے تو چوہدری صاحب کا لہجہ ایسا ہوتا ہے کہ لہریں بھی پلٹ کر دیکھیں کہ یہ خطا کب ہوئی، اور اتحاد سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اُنکی اہمیت کس موڑ پر کم پڑ گئی۔ ہر لفظ اور ہر تشبیہ سننے والے کو یہ بتاتی ہے کہ طاقت اور اثرات کی دُنیا کبھی سادہ نہیں۔
یہ سارا منظر عالمی تعلقات کو اُصولوں سے زیادہ کیفیت کے تابع دکھاتا ہے۔ آج تعریف ہے تو کل تنقید، آج قربت ہے تو کل فاصلہ۔ اگر یہی انداز برقرار رہا تو سفارتی کیلنڈر بھی موسموں کی طرح غیر یقینی ہو جائے گا — کب دھوپ نکلے اور کب بادل چھا جائیں، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ عوام اِس تماشے کو دِلچسپی اور تشویش کے امتزاج کیساتھ دیکھ رہے ہیں؛ کہیں قہقہے ہیں، کہیں سنجیدہ گفتگو۔ ہر بیان پہلے ہنسی لاتا ہے، پھر سوال، اور آخر میں فکر پیدا کرتا ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ دُنیا نظریں جمائے چوہدری صاحب کے اگلے جملے کی منتظر ہے۔ جب تک فتح نہیں ملتی یا آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہوتا، تب تک ہر بیان فضاء میں اپنی دھاڑ کیساتھ گونجتا رہیگا۔ ہر طنز اور ہر جذباتی جھٹکا یہ بتاتا ہے کہ یہ گفتگو محض مذاکرہ نہیں، بلکہ ایک تیز رفتار کھیل ہے — جہاں نرمی کے لمحے کم اور غیر یقینی صورتحال زیادہ ہے۔ سننے والے، چاہے قہقہے لگائیں یا سنجیدہ سوچ میں ڈوبیں، اِس کشمکش کے درمیان حیرت میں مبتلا رہتے ہیں، کیونکہ چوہدری صاحب کا ہر بیان حالات کو لمحہ بہ لمحہ بدلتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *