اسی کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر بینجمن سسٹر کاا بہت شہرہ تھا وہ سلور جوبلی پروگرام کے ذریعے اسکرین پر ائیں اور انہوں نے پرانے نغموں کو کورس کی شکل میں گا کر ایک نیا لطف دیا ۔
ان کا نام اور ان کی شخصیتیں اتنی مقبول ہو گئی تھیں کہ کسی نے اپنی ہونے والی بچی کا نام بھی بیجمنن سسٹر ہی رکھ لیا تھا ۔ جہاں کہیں بھی کسی گھر میں تین بہنوں کا تذکرہ ہوتا یا کسی کی تین بہنیں ہوتی ہیں یا کسی کی تین نندیں ہوتی یا تین بھابیاں ہوتی تو ان کو بینجمن سسٹر کا ہی لقب دے دیا جاتا
تاہم بنجمن سسٹر کی خصوصیت یہ ضرور ہونی چاہیے کہ وہ تینوں ایک مقصد پر مشترک ہوں اور ظاہر ہے ان کی بات میں اثر بھی ہو اور لوگ ان کی دیوانے بھی ہوں
ایک زمانے کے بعد ان بینجمن سسٹر کی یاد اس وقت ائی جب عمران خان کی تین بہنیں یہ جانتے ہوئے بھی میدان میں ائیں کہ عمران خان وراثتی سیاست کا سب سے بڑا مخالف ہے اور اس نے یا اس کو لانے والوں نے اس اس کو چڑھایا یا بنایا ہی اس لیے تھا کہ وہ موروثی سیاست کے خلاف تھے جیسا کہ نواز شریف یا اصف زرداری کے ساتھ یہ تمغہ چل رہا تھا
ویسے عمران خان نے کبھی کسی تقریر میں اپنی بہنوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی اس کی موجودگی میں بہنیں سیاست میں سامنے ائیں حتی کہ اس کی حلف برداری کی تقریب میں بھی ان تینوں میں سے کوئی بہن موجود نہیں تھی اس کے علاوہ جب عمران خان نے اپنی خصوصی شادی کی تو اس میں بھی کہیں بھی ان کی بہنیں موجود نہیں تھیں ۔
اب یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی بہنیں بغیر کسی سیاسی اشارے کے اور اپنی مرضی سے سیاسی میدان میں اگئی ہیں تا ہم عمران خان کو جب اطلاع ملی ہوگی یا اس سے پہلے جب بہنوں میں سے کوئی ملا ہوگا تو بتایا گیا ہوگا کہ جو عوام ہیں ان کی توجہ زیادہ تر بہنوں کے پیغام کی طرف ہوتی ہے اس کےمقابلے میں وہ پارٹی کے صدر سیکرٹری اور دیگر ارکان پر کان نہیں دھرتے ہیں
کان تو خیر بہنوں کے کہنے پہ بھی نہیں دھرتے لیکن بہنوں نے ایک ڈرامہ جو پچھلے دو مہینے سے سجایا ہوا ہے جو اڈیالہ سے ایک کلومیٹر دور کسی بھی پلیٹ فارم پر کسی بھی فٹ پاتھ پر کسی بھی چار دیواری کے باہر برپا ہو جاتا ہے جس کا مقصد عمران خان سے ملاقات کا حق حاصل کرنا ہوتا ہے جو حکومت اپنی بعض سنجیدہ وجوہات کی بنا پر نہیں دے رہی ہے
یہ بات واضح رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں علیمہ خان پر بھی کرپشن کے الزامات اگئے تھے اور امریکہ میں ان کی جائیداد کے اوپر سوالیہ نشان بن گئے تھے جس کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا وہ سلائی مشین کا کوئی بزنس کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس اتنا پیسہ ایا ۔ جب سے انہوں نے دھرنے کا ڈرامہ رچایا ہے اس کے بعد سے اس بات کی اطلاعات بھی ا رہی ہیں کہ ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی معصومانہ رابطے ہیں جس کی بنا پر ان کا بیٹا نو مئی کے کیس میں کسی کی پتلون اٹھائے ہوئے دکھائی دیا تھا اس بنا پہ گرفتار ہوا لیکن دو تین دن میں ضمانت پھر رہا ہو گیا جبکہ پی ٹی ائی کے عام کارکن پچھلے تین سال سے جیل میں بند پڑے ہیں
اس کے علاوہ پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت بنانے کے موقع پر علیمہ خان نے پتنگ اڑانے کی وکالت کی بسنت بنانے کی وکالت کی اور ان کے بیٹے بڑے دھڑلے کے ساتھ اپنی چھت پر اپنی فیملی کے ساتھ پتنگ اڑاتے ہوئے دکھائے گئے اور اس پر انہوں نے کسی معذرت خواہانہ رویے کو بھی مناسب نہیں سمجھا
اگر یہ بات سوچی جائے تو ذرا ہضم تو نہیں ہوتی کہ علیمہ خان اتنی ہوشیار ہیں کہ وہ عمران خان کے انجام کے بارے میں جانتی ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ اگلے کئی سالوں تک انہوں نے باہر نہیں انا ہے تو لہذا پارٹی پر قبضے کا اس سے بہتر موقع نہیں ہو سکتا اخر کو گھر کی جائیداد ہے اسانی سے اٹھا کے باہر کسی کو کیسے دے دی جائے اور جب کہ کوئی ان کے ساتھ قابل اعتبار رہنما موجود بھی نہیں ہے جس پر عوام اعتبار کریں کوئی بھی لیڈر ان کے پاس ایسا نہیں ہے جو عوامی سطح پر کام کر سکے
سہیل افریدی کو میدان میں لایا گیا تھا لیکن سہیل افریدی بہت جلدی ٹھس ہو گئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی تنخواہ پہ کام کرنے پہ تیار ہو گئے ہیں جس پر امین گنڈاپور نے تقریبا سوا سال گزار دیا تھا
ایسے میں بینجمن سسٹرز میرا مطلب ہے خاتون سسٹرز ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علیمہ سسٹرز اپنا شو کامیابی سے چلا رہی ہیں گو کہ ان کے ساتھ عوامی جم غفیر تو نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا پر ان کا اپنا ایک بہت بڑا گروپ ہے جو لاہور سے ان کے ساتھ اتا ہے ان سے اپنے مطلب کے سوال پوچھتا ہے اپنے مطلب کے انٹرویو لیتا ہے اور رونق بنی رہتی ہے ایسے میں اگر ازاد میڈیا میں سے کوئی ورکنگ جرنلسٹ جیسے کہ اپنا طیب بلوچ ان کی محفل میں پہنچ جائے اور کوئی سوال کر لے تو اس کے اوپر یہ چڑھ دوڑتے ہیں بیچارہ طیب بلوچ تو دو مرتبہ ان کی میزبانی کو بھگت چکا ہے ۔
لیکن یہ بات سمجھ میں اتی ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیو ایم کو توڑنے والے فارمولے کے تحت پی ٹی ائی میں سے کوئی بڑا گروپ بنایا اگلے الیکشن سے پہلے تو علیمہ خان شاید اس میں شامل نہ ہو کیونکہ ان کے اندر بھی عمران خان کی طرح فریب کاری اور یوٹرن لینے کی صلاحیت موجود ہے اس کے علاوہ ان کے اندر وہ بدتمیزی اور بد تہذیبی بھی نظر اتی ہے جو عمران خان کے خواتین ورژن میں ہو سکتی ہے
پی ٹی ائی کے پرانے شو بوائے شیر افضل مروت کے مطابق تو توشے خانے کا قیمتی ہار جس پر الزام تو بیچاری پنکی بیوی پر ایا ہے وہ ہار تو پنکی بی بی سے کپ کی ان کی نند عریمہ خان لے اڑی ہیں اور جب کسی نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواب بھی نہیں دیا ۔
اندرون خانہ اطلاعات کے مطابق علیمہ خان تحریک انصاف پر نہ صرف قبضہ کرنا چاہتی ہیں بلکہ عمران خان کو زیادہ سے زیادہ دنوں تک جیل کے اندر رہنے کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کر چکی ہیں دونوں بہنیں ان کے ساتھ ہیں اسی لیے تینوں کو رس راز میں کبھی لوگوں کو ہڑتالوں مظاہروں ہنگاموں خود کو اگ لگانے کو پورے ملک کی بجلی بند کر دینے کو تیار کرتی ہیں اس سے قطع نظر اس میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں لیکن پی ٹی ائی کی مرکزی موجودہ چاکلیٹ ٹائپ قیادت عام کارکنوں کا دل موہ نہیں سکتی لہذا جتنے بھی کارکن ہیں بنجمن سسٹر میرا مطلب ہے علیمہ سسٹرز کی طرف ہی دیکھتے ہیں اور ابھی تک علیمہ خان اپنی بہنوں کے ساتھ اپنا کھیل خوبی سے کھیل رہی ہیں
اور ان کی باقی دو بہنیں بھی ہیں وہ تو ان سے بھی گئی گزری ہیں ان کو اگر جب بولنے کا موقع ملے تو وہ تربیلہ ڈیم سے بجلی بند کر دینے یا ٹرینوں کو چلنے سے روک دینے جیسی بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے ان کو سیاست کی بنیاد کا پتہ نہیں ہے گو کہ زیادہ پڑھی لکھی تو ہیں شاید ان میں سے عظمی ڈاکٹر بھی ہیں ۔
مزے کی اور دلچسپ بات یہی ہے جس کی بنا پر ان کا شو ان کے یوٹیوبروں کے ذریعے تمام دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ یہ تینوں بہنیں ایک ساتھ بیٹھتی ہیں ایک ساتھ بات کرتی ہیں ایک دوسرے کو زیادہ ٹوکتی نہیں ہیں ۔
اس ادھیڑ سے ذرا زیادہ عمری کے اندر جب گھر میں بچے اپنے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں اور والدین کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا یہ مشغلہ اتنا زبردست ہے کہ علیمہ خان اس کو کسی قیمت پر چھوڑنے پہ تیار نہیں ہوں گی اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس متبادل طور پر ان کا نام ہمیشہ موجود رہے گا لیکن جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ ان کے اندر بھی وہ عمران خانی صفات موجود ہیں جس کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کا اتنا بڑا مہرہ صرف تین سال میں پٹ کے زیرو ہو گیا
لیکن مسکین تو وہ پی ٹی ائی کے عہدے دار ہیں جن کو عمران خان نے ہی نامزد کیا ہے لیکن جن کی کوئی نہیں سنتا جو اپس میں ایک دوسرے کی نہیں سنتے اور علیمہ خان ان سب کی نہیں سنتی لیکن کیونکہ وہی موروثی قیادت ہے تو جو بھی بچے کچھ عوام کارکن بنی گالہ یا اڈیالہ جیل تک پہنچتے ہیں وہ علیمہ خان کی بات پر توجہ دیتے ہیں اور علیمہ خان بہرحال اپنے ساتھ 50 60 لوگوں ایک گروہ لے کے چلتی ہیں جبکہ باقی قیادت کے پاس چار ادمی بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ کے کے پی کی سے کوئی وزیراعلی اپنے ساتھ پورے لشکر کو لے کے نکلے
لیکن اب یہ لشکر بھی کام نہیں کر رہے ہیں اور عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ان کے پاس سوائے معجزے کے اور کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے اور جس طرح جو دھرنے علیمہ خان کے مکمل مشورے کے ساتھ اس مرتبہ دیے گئے تھے لیکن جس جلد بازی کے ساتھ اور بغیر عمران خان کی انکھ کے بارے میں مکمل اطمینان کے بغیر ان کو ختم کیا گیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی ائی ایک محدود قسم کی تحریک چلانے کے لیے بھی کتنے پاپڑ بیل رہی ہے
اسی لیے ان بینجمن سسٹر سے توجہ ہٹانے کے لیے سہیل افریدی نے اب ایک رہائی فورس بنانے کا اعلان کیا ہے اب اس پر صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ ٹائیگر فورس ہی کو تیار کر لیتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا لیکن حقیقت پھر یہی ہے کہ ٹائیگر فورس ٹائپ کی کوئی چیز موجود تھی ہی نہیں ، جب عمران خان کووڈ کے زمانے میں اپنی کسی ٹائیگر فورس کا ذکر کرتے تھے کہ وہ بازار میں جا کے لوگوں کو ماسک پہنوآئے گی ا
اب اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جس طرح ٹائیگر فورس کا کوئی وجود نہیں ہے اس طرح یہ رہائی فورس بھی بننے والی نہیں ہے نہ اس کی کوئی اوقات ہوگی اور نہ کوئی اس میں شامل ہوگا کیونکہ کون پاگل ہے جو اپنا نام کسی فورس میں رجسٹرد کرا کے بیٹھ جائے اور اگلے دن پنجاب پولیس یا سندھ پولیس اس کے گھر پہ اس کا استقبال کرنے پہنچ جائے
تحریک انصاف اپنی بےچارگی کے اس دور پہ پہنچ چکی ہے کہ اب اس پر رحم اتا ہے ہم پہلے ہی بار بار بتا چکے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی تحریک ایک سنگل جماعت کبھی نہیں چلا سکتی نہ تحریک انصاف چلا سکتی ہے نہ اس سے پہلے کسی پیپلز پارٹی نے چلائی ہمیشہ ان کو چند بڑی علاقائی اور مذہبی پارٹیوں کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کے ساتھ سچے دل کے ساتھ اتحاد بنتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی باتیں سنتے ہیں جب اپ کی تحریک کامیاب ہوتی ہے اس کے علاوہ جو بڑے شہر ہیں خاص طور پر کراچی اور اب تو لاہور بھی بڑا شہر ہے تو ان دو شہروں میں جب تک اپ بھرپور قسم کا مظاہرہ کرنے کی طاقت نہ رکھیں تو اپ کسی بھی قسم کی
ہو سکتا ہے کامیابی کی امید نہ رکھیں ،
عمران خان کسی ڈیل کے نتیجے میں رہا ہو جائے یا ان کو کوئی ریلیف ملے لیکن اس کا تعلق بینجمن سسٹر کی شرارتوں سے ہرگز نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی نام نہاد گوریلا فورس یا رہائی فورس سے











Post your comments