ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا ہے کہ اس کے میزائلوں نے اسرائیل کے قلب میں واقع 100 سے زائد فوجی اور سیکیورٹی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، جو علی لاریجانی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کا بدلہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اہداف کو اس لیے نشانہ بنایا جا سکا کیونکہ اسرائیل کے کثیرالجہتی اور انتہائی جدید دفاعی نظام کا انہدام ہو چکا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس انتقامی کارروائی میں خرمشہر-4، قدر، عماد اور خیبر شکن میزائل استعمال کیے گئے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق تل ابیب کے ضلع رامات گان میں گرنے والے ملبے کے باعث 1 مرد اور 1 خاتون ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے پہلی بار حاج قاسم میزائلوں سے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی میزائل اسرائیلی شہر بیتِ شیمش میں فوجی تنصیبات تک پہنچ گئے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کے جواب میں تل ابیب کو کلسٹر وار ہیڈز لے جانے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے بھی ایرانی میزائلوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی تصدیق کر دی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق شہر بیتِ شیمش پر میزائل حملے سے متعدد عمارتیں نشانہ بنیں اور کئی اہم فوجی عمارتیں تباہ ہو گئیں، ان حملوں میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیتِ شیمش میں میڈیکل کور اور فوجی بھرتی مراکز بھی حملے کی زد میں آئے، ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ فوجی سامان اور لاجسٹک سائٹس بھی بیتِ شیمش کے اس علاقے میں ہیں، وسطی اسرائیل میں ہنگامی صورتِ حال اور سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
بیت شیمش پر ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی حکام کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے حملے میں میزائل 100 سے زائد اہداف پر لگے ہیں اور اسرائیل میں 200 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جنگ چھوڑ کر مرمت کے لیے بحیرۂ احمر سے روانہ ہو گیا۔
یو ایس نیول انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی یونان کے سوڈا بے میں مرمت ہو گی، جہاز 2 سے 3 ہفتے آپریشنل نہیں رہے گا۔
امریکی نیول انسٹیٹیوٹ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ جہاز میں آگ کے نتیجے میں کئی رہائشی حصے اور 100 سے زائد بستر بھی ضائع ہو گئے۔
اس سے قبل امریکی اخبار نے کہا تھا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے مرکزی لانڈری ایریا میں لگی آگ بجھانے میں 30 گھنٹوں سے زیادہ وقت لگا تھا، جس میں 2 امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے، جہاز کے انجن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
آگ لگنے سے 600 سے زائد فوجی اپنے بستروں سے محروم ہو گئے، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر تقریباً ساڑھے 4 ہزار افراد کا عملہ تعینات ہے۔











Post your comments