تیل بردار جہازوں پر حملے: ایران نے امن کیلئے 3 شرائط رکھ دیں

عراق کی بندرگاہ الفاؤ میں 2 غیر ملکی تیل بردار جہازوں پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کے مطابق کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے خاتمے کے لیے 3 اہم شرائط پیش کی ہیں جن میں ایران کے ’جائز حقوق‘ کو تسلیم کرنا، جنگی نقصانات کا ازالہ (ہرجانے کی ادائیگی) کرنا اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں شامل ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

ایران، امریکا اور اسرائیل جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

امریکی اخبار کی سیٹلائیٹ تصاویر پر مشتمل رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی اور اتحادی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کم از کم 17 امریکی مقامات کو نقصان پہنچا ہے جن میں 11 امریکی فوجی اڈے یا تنصیبات شامل ہیں ۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں ایک ایسی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا ہے جہاں مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق اہم صلاحیتوں پر کام کیا جا رہا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں نشانہ بنائی جانیوالی یہ تنصیب تہران کے قریب تالیغان کمپاؤنڈ میں واقع ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران فضائیہ کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں میں اس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایران نے اس مقام کو جدید دھماکہ خیز مواد کی تیاری اور حساس تجربات کے لیے استعمال کیا، جو مبینہ طور پر  عماد منصوبے کا حصہ تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق تالیغان کمپاؤنڈ کو اس سے قبل بھی اکتوبر 2024 میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت اسرائیل نے یہ کارروائی ایران کے ایک میزائل حملے کے جواب میں کی تھی۔

فوجی بیان میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل کو یہ معلومات ملی تھیں کہ ایران نے گزشتہ حملوں کے بعد اس تنصیب کو دوبارہ فعال کرنے کے اقدامات شروع کر دیے تھے، حالیہ حملہ ایران کے جوہری عزائم کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری فوجی کارروائیوں کی ایک کڑی ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *