امریکی صدر پارلیمانی نظام کے وزیراعظم کی طرح اکثریت کھونے پر مستعفی نہیں ہوتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جنوری 2029 تک صدر رہیں گے، اور 2026کے مڈٹرم انتخابات میں شکست کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خالی ہاتھ ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس، رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے مڈٹرم سے قبل ہی کانگریس کے بغیر حکمرانی کا متبادل منصوبہ تیار کر لیا تھا۔ ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلوں کا عدالتوں میں دفاع کرنے کی تیاری، اختیارات کی آئینی حدود آگے بڑھانے پر غور، ٹرمپ کا ڈیموکریٹس سے سودے بازی کا منصوبہ بھی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عوام مجھ سے تنگ پڑ گئے تو اسرائیل جا کر وہاں وزیراعظم بن جاؤں گا۔ وہاں میری مقبولیت 99 فیصد ہے۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے اسرائیل کے لیے چار ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد بند کرنے کا اعلان بھی کیا۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں بڑے نقصان کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر اور کیمرے کے سامنے آئے۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ ایران جنگ تھی، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایران کے خلاف جنگ ضروری تھی، یہ اقدام ناگزیر تھا، ایران کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں زیرِ تعمیر نئے بال روم کے مقام پر موجود تھے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اپوزیشن نے امریکی امداد کی بندش کو بڑا نقصان قرار دیا۔ نیتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
خیال رہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی 7 نشستیں ری پبلکنز سے چھین لیں، جبکہ ری پبلکن اکثریتی ریاستوں الاسکا اور مسیسیپی میں دو نشستوں پر مقابلے کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔
اس کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں قانون سازی، حکومتی اخراجات اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی نگرانی کے حوالے سے اہم اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔
سینیٹ کے ارکان ایران جنگ شروع کرنے کے فیصلے، اس کے طریقۂ کار، کانگریس کو اعتماد میں نہ لینے اور جنگ کے اخراجات سے متعلق ہیگستھ سے جواب طلب کرنا چاہتے ہیں۔




