ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم توقیر مقابلے میں ہلاک ہوگیا، ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ملزم ریمانڈ پر تھا اور فرار ہوگیا تھا۔
سی سی ڈی کے مطابق ملزم موٹرسائیکل پر جارہا تھا جسے روکنے کی کوشش کی گئی، ناردرن بائی پاس بہاولپور پر پولیس نے دو موٹرسائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی، پولیس کے روکنے پر ملزمان نے بھاگتے ہوئے فائرنگ کی۔
ملزم توقیر اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تاہم ملزم کا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔
واضح رہے کہ ملزم توقیر نے گزشتہ روز کار کی ٹکر سے 15 سالہ لڑکے کو کچل دیا تھا، یتیم بچہ وسیم عباس ملزم توقیر کے غیر انسانی رویے سے تنگ آکر کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔
ہلاک ملزم توقیر نذیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا، عدالت میں پیشی کے دوران وکلاء نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ روز پیش آئے واقعے کے بعد یتیم خانہ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کردی۔
چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کا کہنا ہے کہ یتیم خانے کی انتظامیہ نے رجسٹریشن کی درخواست جمع کروائی تھی۔
سارہ احمد کے مطابق کار کی ٹکر سے جاں بحق لڑکے کو ایک غیر رجسٹرڈ یتیم خانہ نے الیکٹریشن کے پاس کام پر بھیجا تھا، یتیم خانہ نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا۔
واضح رہے کہ ملتان میں 15 سال کے یتیم بچے وسیم عباس کو کار سے کچل کر قتل کرنے کے واقعہ کے حوالے سے ریکارڈ کے مطابق غیر رجسٹرڈ یتیم خانے میں اس وقت 122 بچے زیر کفالت ہیں۔
مظفرگڑھ سے اہلخانہ کے مطابق وسیم کا بھائی، کزن اور چھوٹی بہن بھی یتیم خانہ میں زیر کفالت تھی۔ اہلخانہ کے مطابق وسیم عباس کی بہن کو بھی چند ماہ کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔
اہلخانہ کے مطابق وسیم کے قتل کے بعد چھوٹے بھائی اور کزن کو گھر لے آئے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ملتان میں 15 سال کے لڑکے وسیم کو بااثر ملزمان نے گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کردیا تھا۔
ملزمان نے قتل کو حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم مختلف زاویوں سے سامنے آنے والی ایک سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز نے ثابت کیا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ظالمانہ انداز کا قتل تھا۔




