ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کی تفتیش میں ٹائیگر شروف کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والی فائرنگ کے واقعے سے متعلق نئے اور چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا اصل ہدف بالی ووڈ کی کوئی اور اہم شخصیت تھی، لیکن وہاں سیکیورٹی سخت ہونے یا رسائی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے منصوبہ تبدیل کیا۔ ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے بعد ٹیم کا پہلا بیان سامنے آ گیا بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حملہ آوروں نے سوشل میڈیا اور فین ریلز کے ذریعے یہ معلوم کر لیا تھا کہ ٹائیگر شروف عام طور پر ذاتی پولیس پروٹیکشن کے بغیر سفر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں نسبتاً آسان ہدف کے طور پر چُنا گیا۔ تفتیش سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان کا مقصد بالی ووڈ انڈسٹری میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، اور مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے جڑے روابط کی بھی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم توقیر مقابلے میں ہلاک ہوگیا، ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ملزم ریمانڈ پر تھا اور فرار ہوگیا تھا۔

سی سی ڈی کے مطابق ملزم موٹرسائیکل پر جارہا تھا جسے روکنے کی کوشش کی گئی، ناردرن بائی پاس بہاولپور پر پولیس نے دو موٹرسائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی، پولیس کے روکنے پر ملزمان نے بھاگتے ہوئے فائرنگ کی۔

ملزم توقیر اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تاہم ملزم کا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔

واضح رہے کہ ملزم توقیر نے گزشتہ روز کار کی ٹکر سے 15 سالہ لڑکے کو کچل دیا تھا، یتیم بچہ وسیم عباس ملزم توقیر کے غیر انسانی رویے سے تنگ آکر کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ہلاک ملزم توقیر نذیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا، عدالت میں پیشی کے دوران وکلاء نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ روز پیش آئے واقعے کے بعد یتیم خانہ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کردی۔

چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کا کہنا ہے کہ یتیم خانے کی انتظامیہ نے رجسٹریشن کی درخواست جمع کروائی تھی۔

سارہ احمد کے مطابق کار کی ٹکر سے جاں بحق لڑکے کو ایک غیر رجسٹرڈ یتیم خانہ نے الیکٹریشن کے پاس کام پر بھیجا تھا، یتیم خانہ نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا۔

واضح رہے کہ ملتان میں 15 سال کے یتیم بچے وسیم عباس کو کار سے کچل کر قتل کرنے کے واقعہ کے حوالے سے ریکارڈ کے مطابق غیر رجسٹرڈ یتیم خانے میں اس وقت 122 بچے زیر کفالت ہیں۔

مظفرگڑھ سے اہلخانہ کے مطابق وسیم کا بھائی، کزن اور چھوٹی بہن بھی یتیم خانہ میں زیر کفالت تھی۔ اہلخانہ کے مطابق وسیم عباس کی بہن کو بھی چند ماہ کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔

اہلخانہ کے مطابق وسیم کے قتل کے بعد چھوٹے بھائی اور کزن کو گھر لے آئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ملتان میں 15 سال کے لڑکے وسیم کو بااثر ملزمان نے گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کردیا تھا۔

ملزمان نے قتل کو حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم مختلف زاویوں سے سامنے آنے والی ایک سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز نے ثابت کیا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ظالمانہ انداز کا قتل تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں