فرانس میں کئی روز سے جاری احتجاج زور پکڑ گیا

فرانس میں کئی روز سے جاری احتجاج زور پکڑ گیا، بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیمی سہولتوں کے فقدان پر شہری سڑکوں پر آگئے۔

فرانس میں پرتشدد واقعات پر قابو پانے کےلیے کئی علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا جبکہ یونینز نے 5 نومبر کی ہڑتال کی کال دیدی ہے۔

پیرس سمیت مختلف شہروں میں مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی، سڑکوں پر آگ لگا دی، پُرتشدد احتجاج پر قابو پانے کے لیے پیرس، لیون، نیس اور کچھ شمالی علاقوں میں کرفیو لگا یا گیا جبکہ مارسے میں عوامی اجتماع پر پابندی لگادی گئی۔

صدر میکرون نے پُرتشدد مظاہرین سے قانون کے تحت نمٹنے کا حکم دیا ہے جبکہ کئی روز سے جاری مظاہروں میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 1 ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

تازہ صورتحال میں یورپی یونین نے فرانس جانے والے شہریوں کو احتیاط کو مشورہ دیا ہے۔
فرانس میں ہنگاموں کے دوران سوشل میڈیا پر دلچسپ مناظر وائرل ہوگئے۔

فرانس میں کہیں جلی ہوئی گاڑیوں کے درمیان خاتون اطمینان سے جاگنگ کرتی نظر آئیں، تو کہیں کیفے میں بیٹھا جوڑا سکون سے وقت گزارتا رہا۔

احتجاج میں کئی لوگ کیپٹن امریکا، اسپائیڈر مین اور نپولین کے روپ میں شریک ہوئے تو کئی سڑک پر ڈانس کرتے دکھائی دیے۔

احتجاج میں مقامی موسیقاروں نے بھی اپنا حصہ ڈالا، آرکسٹرا کے فنکاروں نے مشہور فلمی دھنیں اور احتجاجی ترانے بجا کر مظاہرین کا ساتھ دیا۔

واضح رہے کہ فرانس میں پُرتشدد مظاہروں اور ہنگامہ آرائی کے بعد فرانسیسی وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے مقامی اداروں کو بعض علاقوں میں جزوی کرفیو لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔

پیرس میں میڈیا سے گفتگو میں انکا کہنا تھا وہ امن و امان کی بحالی کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنا ضروری سمجھا گیا تو ایسا کیا جا سکتا ہے، تاہم اس مرحلے پر جزوی کرفیو زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن شہروں میں جزوی کرفیو نافذ کیا جائے گا اور اس کی نوعیت کیا ہوگی، تاہم انہوں نے پورے پیرس میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں