فلسطینی عید؟اصف اشرف راولاکوٹ کشمیر

میھٹی عیدنکی عید عید الفطر یا فلسطینی عید ۔برسوں پہلے جب قوم پرست کشمیری طلبہ تنظیم  جے کے این ایس ایف نے پہلی مرتبہ راولاکوٹ میں نعرہ لگایا امن ہو یا جنگ ہو ساتھیوں کا سنگ ہو ۔ہمیں تو سرخ پسند ہے خون ہو یا رنگ ہو تو نہ جانے کیوں دل کو بھا گیا اور پھر نس نس میں یہ نعرہ بس گیا پھر خون ہمیں اور بھی جچنے لگا یہ خون مقبول بٹ کا گرا پھر اشفاق مجید وانی حمید شیخ ڈاکٹر عبدالاحد گورو اعجاز ڈار اردیس خان مقبول علائی شہدائے چکوٹھی شبیر صدیقی بشارت رضاء کاکا حسین اور ادھر  آزاد کشمیر میں فہیم اکرم سردار عارف شاہد  کے خون کی بہار سی چل پڑی ایسی تسلسل نے فلسطین کو بھی یادوں سے محو نہ ہونے دیا خون فلسطین سے ایشیا ء سرخ ہے کے نعرے ذہنوں میں گونجتے رہے مقبول بٹ جب یاد آئے تو ساتھ کرنل قذافی اور یاسر عرفات بھی آنکھوں کے سامنے رہے سری نگر اور جموں میں بہتا سرخ خون فلسطین کو یار کرواتا رہا آزادی کا ایک ہی ڈھنگ گوریلہ جنگ گوریلہ جنگ  پھر امن کے گیت خاموش ہوگئے زیتون کی ٹہنیاں خشک ہوگئیں بندوق پھر جاگی اور فلسطین سرخ ہو گیا اب کی بار فلسطین میں بچے قربان ہوئے نئی نسل مٹا دی گئی مگر اسرائیل کو بھی “اوقات”یاد آ گئی فلسطین کے سرخ خون  نے ایسا طمانچہ رسید کیا کہ اس فلسفہ کو کہ امت مسلمہ بھی کوئی وجود ہے مٹا کر رکھ دیا عرب سے حجم تک اور تہران سے اسلام آباد تک سارے حکم ران خاموش ہوگئے ان کلمہ گو سے بہتر جنوبی افریقہ کے کالے کافر ٹھرے جو اقوام متحدہ کو ہلا کر رکھ گئے سنا تھا کہ ایک عالمی اسلامی فوج بھی ہے مگر فی الوقت ان کا مسلہ جزیرے ٹھرے اس دوران چند روز قبل پھر   عید ہوئی ہر گھر کے بچے نئے کپڑے جوتے پہن کر اپنے پاپا کے ساتھ عید منائی ہر گھر میں رنگ برنگے پکوان پکے پوری دنیا کا مسلمان خوشی منارہا تھا مگر فلسطین میں قیامت صغری تھی گھر اجڑے اور ویران تھے  قبرستانوں میں میلے سجیں  جو زندہ بچ گئے وہ معصوم بچے حسرت سے صرف دیکھنے پر مجبور تھے میں سوچ رہا ہوں کسی ایک ملک کا حکمران یا کوئی ایک سرمایہ دار ہی ہمت کر جاتا ان زندہ بچوں کو عید کے روز نئے کپڑے جوتے اور کھانا فراہم کر سکتا تھا لیکن سعودی شہزادوں سے پاکستان کے شریفوں تک کسی کو سوچ نہ آئی اڈیالہ جیل میں اسیر  خلیفہ بھی بھول گیا کہ میرے لیے لاکھوں روپیہ کے سرکاری فنڈ سے دیسی ککڑ اور دیسی گھی تو حق ہے مگر فلسطین کے بچوں کے وہ بھی کال دینا بھول گیا صرف وہی ہمت کرتا تو شوکت خانم سے بڑھ کر فلسطینی بچوں کے لیے لوگ اس کو معاونت کرتے مگر اس وقت اس کا یہ مسلہ نہیں رہا اس کا مسلہ الیکشن دھاندلی ہے اب غزہ میں لاکھوں کی ابادی رہ گئی اور اس میں بچے کتنے ہوں گے سھمجنا کوئی الجبرہ نہیں اسرائیل کا ٹارگٹ ہی نسل کشی جو ہے کوئی تصور کر سکتا ہے کتنے فلسطینی گھاس کھا کر روزہ رکھ رہے تھے جہاں مقتدرہ حکومت اور سرمایہ دار جرم کے ساتھ گناہ عظیم کا ارتکاب کر بھیٹے وہ فلسطین کے مسلمان کو عید کی خوشیوں میں شریک نہ کر سکے وہاں دنیا بھر کا سیاسی اور مذہبی طبقہ بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا سب نے ہی منافقت کی اب کی بار جب عید الفطر کی نماز پڑھی  گئی اصول یہ بنتا تھا کہ ہر مسجد سے نمازی ایک ریلی نکالتے ریلی  گاؤں میں چند  فرلانگ تک ہی محدود رہتی اورشہروں میں مین شاہراؤں پر گذرتیں مگر ہر محلہ ہر گاؤں ہر شہر دنیا بھر میں فلسطین کے جھنڈوں تلے جب فلسطنیو قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں خون فلسطین سے ایشیا سرخ ہے کے نعروں کی گونج ہوتی تو اور کچھ نہ سہی کل روز قیامت ساری امت مسلمہ کہہ سکتی ہم ابراہیم کی آگ بھجانے والی چڑیا کی مانند تھے اے مالک دوجہاں ہمیں بس میں اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا تو معاف کر دے وہاں سزا سے بچ جاتے اور عید کے دن  پوری دنیا سے احتجاج دیکھ کر فلسطینی خوش ہوتے مگر افسوس صد افسوس  ہم ایسے نہیں کر سکتے ہمارے پاس نہ کشمیر میں کوئی مقبول بٹ ہے نہ عرب میں شاہ فیصل نہ ہمارے پاس خمینی رہا نہ صدام حسین  ہمارے پاس صرف دعوے ہیں صرف خواب ہیں اور ہم خواب فروش میں ان دو معصوم بچوں کو کیسے آنکھوں سے اوجھل کر پاوں گا جن کا سب کچھ تباہ ہوا تو ان دو بہن بھائی نے فلسطین کا پرچم اوڈھ لیا ہمارے بچوں کو کیا خبر قومی پرچم کیا ہے انہیں تو موبائیل فون اور بن چیز ہی یاد ہیں اس بازو کٹی بچی کو کیسے خدا سرخرو نہ کرے گا جو بستر مرگ پڑی الحمد للّٰہ کہتے خوش اور مطمئن ہے وہ فلسطینی کیسے کل سرخرو نہ ہوں گے جہنوں نے کھنڈرات بنی مساجد صاف کر کے وہاں تراویح پڑھیں وہ پیر و جواں کیسے سربلند نہ ٹھریں گے جو اسرائیلی فوج کے ہتھیار وں کے سامنے قبلہ اول میں جمعہ پڑھتے رہے اور  عید تباہ مساجد کے کھنڈرات میں پڑھی  جس نماز کا درس کربلا میں امام حسین نے دیا اب عید پر وہ نظارے دیکھ کر   قدرت بھی دنگ رہ گئی  جب فلسطین کے معصوم بچے گزشتہ سال کی خوشی بھری عید کو یاد کررہے تھے  اس یاد پر  جلد خدا کی رحمت بھی جوش مارے گی مجھے یقین ہے یقین محکم ہے کل قدرت اٹل فیصلہ کر دے گی فلسطینی مظلوم نہیں فلسطینی ہیرو ہیں کل اسرائیل اور اسرائیل کے سارے سہولت کاروں کی تباہی کا فیصلہ ہو گا آج  عرش بریں پر آقائے دو جہاں مالک حقیقی فلسطین کی آزادی کا فیصلہ کرے گا کل عرش بھی ہلے گا اور فرش بھی کل جرات صبر اور خودداری والے فلسطینیوں کو ایک نئی زندگی کی نوید ہوگی  ہاں اب خاموشی اور مصلحت میں  عید منانے والو اور  خاموش رہنے والو مغالطہ کا شکار لوگو یہ ضرور سوچنا اسلام آباد بھی غزہ بن سکتا ہے کراچی لاہور کویٹہ پشاور بھی عرب وعجم کا ہر قصبہ وشہر بھی غزہ بن سکتے ہیں اس وقت بچوں کا کیا ہوگا تب عید کیسی ہوگی یہ دنیا تو مکافات عمل کا جو نام ہے کشمیر کیوں خاموش ہے فلسطین اور کشمیر یک جان دو قالب جو تھے مقبول بٹ یاسر عرفات کرنل قذافی والی ٹرائیکا تو نہ رہی نہ بھٹو ہے ان کے ماننے والے کیوں خاموش ہیں کشمیر کا قوم پرست تو فلسطین کو دوسرا گھر قرار دیتا تھا ساٹھ اور ستر کی دہائی میں فلسطین تو صرف کشمیر کے قوم پرست کا نعرہ محور اور مرکز تھا فلسطین کے پرچم سے جڑت پر امان للہ خان مرحوم نے جے کے ایل ایف کا پرچم تیار کیا تھا این ایس ایف نے تو 66سے فلسطین کو اپنے منشور میں صف اول میں رکھا مگر آج کیوں خاموشی ہے کدھر گیا وہ بائیں بازو کی سیاست کا عمل اس خاموشی اس بے حسی پر ماتم کروں یا لعنت بھیجوں میرا دعویٰ ہے کہ کشمیر بھی غزہ بننے جا رہا ہے سری نگر جموں گلگت راولاکوٹ مظفرآباد میرپور کوٹلی جہاں جہاں مزاحمت ہوگی وہاں وہاں غزہ بنے گا فلسطین کی طرح کشمیر بھی سرخ خون کی بہار کھلنے جارہا ہے کاش اس کا ادراک ہو جائے میرا صرف ایک سوال اہل فلسطین کو تہناء چھوڑ کر عید منانے والو آج عید منانے کے بعد رات سونے سے قبل اپنے بچوں سے یہ ضرور پوچھیں کہ اگلی عید غزہ کے بچوں جیسی ہوئی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حرف آخر ۔۔۔۔۔۔فلسطینی خوش نصیب ہیں جن کو اسمعیل ہانیہ جیسا لیڈر ملا ہے جس کے تین جواں سال کڑیل بیٹے عید پر اپنے لہو سے وطن کو سرخ کر بھیٹے  یہ نوید ہے کہ جس قوم کے لیڈر بچے پوتے نواسے قربان کرنے لگیں جہاں ان شہید بچوں کی بوڑھی ماں بیماری کی حالت میں بستر پر یہ خبر سن کر وکٹری کا نشان بنائے اور اس خبر پر اس کی بیماری ختم ہو جائے وہ قوم عظیم ہے سرخرو ہے سربلند ہے  امت مسلمہ کو “٫٫فلسطینی عید ؛”؛کروا کر ضمیر جھنجھوڑ نے والو سلام عقیدت

About the author /


Related Articles

Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Newsletter