وزیراعظم نے تاخیر کا شکار نئی آٹو پالیسی کی منظوری دیدی تاہم سیلز ٹیکس سے متعلق کچھ امور پر آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کے بعد پالیسی کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی، ٹیکس متعلق قانون سازی بھی کی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت نئی آٹو پالیسی کےحوالے سے منگل کو اہم اجلاس میں وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کے مسودے کی اصولی طور پر منظوری دی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کوالیکٹرک گاڑیوں پرسیلز ٹیکس سے متعلق کچھ اعتراضات ہیں۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہےکہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کیا جائے،ٹیکس سے متعلق قانون سازی بھی کی جائے گی ۔بیٹری الیکٹرک وہیکلز پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز پر 6، پلگ ان ہائبرڈ پر9، ہائبرڈ اور آئی سی ای وہیکلز پر 18فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ آٹو پالیسی کی مدت تیس جون دو ہزار چھبیس کو ختم ہو گئی تھی، گاڑیوں کی صنعت اور صارفین نئی آٹو پالیسی کے منتظر ہیں کیوں کہ پالیسی میں تاخیر سے صنعت کاروں نے پیداوار اور قیمتوں سے متعلق فیصلے مؤخر کر رکھے ہیں،وزیراعظم نےوفاقی وزیر قانون و انصاف کی سربراہی میں کمیٹی کو آٹو پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دینے کا ٹاسک دیاتھا،کمیٹی نےآٹو پالیسی کوحتمی شکل دینے سے قبل تمام اہم امور کا جامع جائزہ لیا،آٹو پالیسی پر تمام وزارتوں اور متعلقہ اداروں کے تحفظات پر شق وار غور کیا،آٹو پالیسی کےحتمی مسودے کا قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا،وزیراعظم نےاس سے پہلےوفاقی وزیربجلی کی سربراہی میں بین الوزارتی کمیٹی قائم کی تھی ،کمیٹی نےآٹوموٹیو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 کے مسودے میں ترامیم کی تجویز پیش کرتے ہوئے آٹوموبائل سیکٹر کی بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی سفارش کی ہے،کمیٹی نےپاکستانی آٹو پارٹس کوعالمی ویلیوچینزکے ساتھ مربوط کرنے، نئی الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانے، مقامی ویلیو ایڈیشن بڑھانے اور آٹوموبائل ٹیرف میں بتدریج کمی کی تجاویز دی ہیں۔
وزیراعظم نے تاخیر کا شکار نئی آٹو پالیسی کی منظوری دیدی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




