قارون کی کہانی اور آج کا معاشرہ از قلم: نجیم شاہ

قارون کی کہانی کوئی پرانی داستان نہیں، یہ آج کے معاشرے کا ننگا آئینہ ہے۔ وہ شخص جو کبھی علم و فضل کا مرکز تھا، دولت کے انبار ملتے ہی غرور اور تکبر کا زندہ مجسمہ بن گیا۔ جھوٹ، فریب اور الزام تراشی کے ذریعے اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی، مگر زمین نے اُسے نگل لیا۔ اور یہی وہ انجام ہے جو ہر اُس معاشرے کا مقدر بنتا ہے جہاں طاقت اور دولت انصاف کو روند ڈالیں۔

پاکستانی معاشرے پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے ہم سب نے قارون کی راہ اختیار کر لی ہے۔ عوام بھوک اور مہنگائی کے بوجھ تلے کچلے جا رہے ہیں، جبکہ طاقتور طبقہ محلات اور قیمتی گاڑیوں میں اتراتا ہے۔ نصیحتیں دی جاتی ہیں، مگر عمل کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ انصاف کے ایوانوں میں فیصلے طاقتور کے حق میں اور کمزور کے خلاف جاتے ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو قوموں کو زمین میں دھنسنے پر مجبور کرتا ہے۔

قارون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر الزام لگایا تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔ آج بھی کردار کشی، جھوٹے مقدمات اور میڈیا ٹرائل عام ہیں۔ طاقتور طبقہ اپنی بقا کے لئے ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔ مگر تاریخ کا فیصلہ بڑا بے رحم ہے: جھوٹ اور دھوکہ دہی کا انجام ہمیشہ رسوائی اور بربادی ہے۔ سچائی دیر سے ہی سہی مگر بالآخر سامنے آتی ہے اور انصاف اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔

قارون کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ آج بھی جب ظلم اور ناانصافی حد سے بڑھ جاتی ہے تو عوام خاموشی سے الگ ہو جاتے ہیں۔ کوئی ادارہ، کوئی جماعت، کوئی طاقت انہیں بچا نہیں سکتی۔ زمین اور وقت ایسے کرداروں کو نگل لیتے ہیں اور ان کے نام عبرت کی مثال بن جاتے ہیں۔ فیصلہ سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی خاموشی ان کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ناجائز دولت کبھی سکون نہیں دیتی۔ بیرون ملک جائیدادیں، آف شور کمپنیاں اور ناجائز اثاثے ایک دن عوامی عدالت میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ دولت کے انبار وقتی سہارا تو دے سکتے ہیں مگر تاریخ کے کٹہرے میں یہ سب بوجھ بن جاتے ہیں۔ غرور اور تکبر کا انجام ہمیشہ زوال ہے۔ جو لوگ زمین پر فساد پھیلاتے ہیں، وہ آخرکار زمین ہی کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔

معاشرتی بیماریوں نے جڑ پکڑ لی ہے۔ رشوت، سفارش، ناانصافی اور طاقتور کے لئے الگ قانون، کمزور کے لئے الگ قانون۔ یہ سب وہی ’’فساد فی الارض‘‘ ہے جس سے قرآن نے منع کیا تھا۔ مگر ہم نے قارون کی راہ اختیار کر لی ہے۔ عوام بھی خاموش تماشائی بن کر اس بربادی میں شریک ہیں۔ یہی خاموشی اصل جرم ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔

قارون کی داستان ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ نصیحت کو ٹھکرانے کا انجام ہمیشہ بربادی ہے۔ اگر ہم نے عدل، انصاف اور عاجزی کو اپنا شعار نہ بنایا تو ہمارا انجام بھی وہی ہوگا جو قارون کا ہوا۔ زمین ہمیں نگل لے گی، تاریخ ہمیں رسوا کرے گی اور آنے والی نسلیں ہمیں بددعائیں دیں گی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *