این اے ون چترال سے امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے حق میں پی ٹی آی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے بھی وکٹیں گرنے لگے۔

سینیٹر طلحہ محمود  لوییر چترال میں موری بالا، کجو، موری، برنس اور دیگر علاقوں میں بھی عوامی اجتماع سے اظہار حیال کیا جہاں ان کا بڑا والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر سینیٹر محمد طلحہ محمود نے لوگوں سے کہا کہ اگر ان کا جمیعت علمایے اسلام کے بارے میں کچھ حدشات ہیں یا اس جماعت میں شامل نہیں ہونا چاہتا تو میرے ساتھ الحاق کرے۔ سینیٹر طلحہ محمود فاونڈیشن کے دروازے سب کیلیے کھلے ہیں اور آپ لوگ انسانیت کی خدمت اور اپنے علاقے کی ترقی کیلیے میرے شاتھ شامل ہوجایے تاکہ ہم مل کر چترال کی تعمیر نو کا آغاز کرسکے۔ طلحہ محمود نے کہا کہ میں ان روایتی سیاست دانوں کی طرح نہیں ہوں جن میں کسی نے آپ سے اسلام کے نام پر ووٹ لیا کسی نے کوی اور سبز باغ دکھایا مگر یہاں تو مسایلستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے اٹھارہ سالوں سے سینیٹ کا رکن ہوں مگر میں نے سرکار سے کبھی تنخواہ یا دیگر مراعات نہیں لی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے جیب سے  محمد طلحہ فاونڈیشن کے ذریعے کروڑوں روپے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرتا ہوں تو آپ کا حق کیسے کھا سکتا ہوں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ اگر اپ لوگ چترال کے ساتھ محلص ہیں تو تمام تر ذات پات، پارٹی، سیاست اور قومیت سے بالاتر ہوکر میرا ہاتھ بٹایے اور میرے ساتھ شامل ہوکر مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کرے تاکہ اسلام آباد سے اپ کا حق لینے میں کوی رکاوٹ نہ ہو۔ طلحہ محمود نے کہا کہ میرے محالف امیدواروں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست دی ہے کہ یہ غریبوں میں امدادی سامان اور پیسے تقسیم کرتا ہے جس کی وجہ سے مجھے نوٹس جاری ہوا ہے۔ جونہی آٹھ فروری کو انتحابات مکمل ہوجایے امدادی سامان سے بھرے ہویے ٹرکوں کا قافلہ چترال میں داحل ہوں گے ۔ ہم سب لوگوں کو تو نہیں مگر اکثریت کے ساتھ مدد کریں گے تاکہ ان کی مشکلات میں کسی قدر کمی آسکے۔ واضح رہے کہ طلحہ محمود این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کیلیے انتحابات لڑرہے ہیں اور ضلع اپر اور لویر چترال کے محتلف علاقوں کا دورہ کرتے ہویے عوامی اجتماعات سے خطاب کررہا ہے جس کا ہر جگہہ گرم جوشی سے استقبال کیا جاتا ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر کثیر تعداد میں لوگ جوق درجوق اس کے قافلے میں شامل ہوکر شمولیت کا اعلان کرتا ہے۔ چترال کے عوام پر امید ہے کہ ان کی کامیابی پر چترال کا قسمت بدلے گا اور یہاں بھی ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہوگا جس سے ان کی پچھلے کیی دہاییوں کی محرومیوں کا ازالہ بھی ہوسکے گا۔

About the author /


Related Articles

Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Newsletter