“روزہ یا فاقہ کشی اور یوشی نوری کا نوبیل انعام” ایک بار یہ تحریر ضرور پرھیں۔
1سال میں اگر کوئی بھی شخص 20 سے 27 دنوں تک 12 سے 16 گھنٹے بھوکا رہے تو کینسر کے خلیات مکمل ختم ہو جاتے ہیں (شرط یہ ھے کہ شام کو وہ افطاری کے وقت وہ اپنی آخری افطاری نا سمجھے۔
سنہ 2016 میں جاپانی ماہر طب ڈاکٹر یوشینوری اوشومی کو بھوک سے کینسر کے سیل یا خلیات کے مرنے کی تحقیق کرنے پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔
انھوں نے ان جینز کو ڈھونڈ نکالا ہے جو آٹوفیگی یعنی خلیات کے ‘سیلف ایٹنگ’ یا خود خوری کے عمل کا انتظام کرتے ہیں۔
اسلام میں روزہ رکھنا ایک عبادت اور فریضہ ہے جس کے جسمانی فوائد بھی ہیں اور یہ ایک مسلمان کو روحانی مسرت اور طاقت بھی عطا کرتا ہے۔ آج جدید دنیا اور طبّی سائنس روزے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس میں پوشیدہ فوائد کو تسلیم کررہی ہے۔
اس ضمن میں کئی تحقیقی مضامین اور مقالے ہمارے سامنے آچکے ہیں۔ اسی تحقیق کا نتیجہ ہے کہ غیر مسلم بھی چند گھنٹوں کے لیے کھانے پینے سے احتراز یا فاقہ کشی کے قائل ہورہے ہیں۔ یورپ اور امریکا کے لوگوں کا اس طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ تاہم مسلمانانِ عالم کی نظر میں روزہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رحمت اور ایک تحفہ ہے جس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
یہاں ہم بات کر رہے ہیں 2016ء میں کینسر جیسے مہلک مرض سے متعلق انقلابی ریسرچ پر نوبیل انعام پانے والے سائنس داں یوشی نوری کی جن کا تعلق جاپان سے ہے۔ اس سائنس دان نے بتایا کہ کینسر کو روکا جاسکتا ہے اور اگر مرض لاحق ہو، تو اس کی بڑھوتری میں بہت حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ یوشی نوری ٹوکیو کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں پڑھاتے ہیں۔ اُن کی دریافت بتاتی ہے کہ جب انسان زیادہ دیر تک بھوکا رہتا یا فاقہ کرتا ہے، تو جسم کے خلیوں کو بیرونی طور پر خوراک میسر نہیں آتی، جس سے وہ ازخود ایسے خلیوں کو کھانا شروع کر دیتے ہیں (وہ اضافی توانائی/ چربی جو بسیار خوری سے جسم میں جمع ھوتی ھے گلے سڑے، خراب ہوں اور یہ وہ خلیے ہوتے ہیں جو انسانی جسم کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں یہ عمل کہلاتا ہے۔ اس دل چسپ دریافت میں جاپانی سائنس دان کا کہنا تھا کہ جب انسان سال میں ایک مرتبہ 20 سے27 دنوں تک 12 سے 16 گھنٹے تک بھوکا رہتا ہے تو کینسر کا سبب بننے والے، گلے سڑے اور ناکارہ خلیے خود بہ خود ختم ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح صحت مند انسانوں میں کینسر کے امکانات گھٹ جاتے ہیں، جب کہ کینسر کا شکار ہوجانے والے مریض میں اس کے پھیلاؤ کی رفتار کم ہوسکتی ہے۔ یوں تو یہ کوئی نئی طبّی تحقیق نہیں تھی، اور اس سے قبل بھی ماہرین یہ بات کرتے رہے ہیں، لیکن یوشی نوری نے اس نظریے پر لیبارٹری سے ٹھوس شواہد اکٹھے کیے اور اسے ثابت کرنے کی کوشش کی۔
روزے کو اگر فاسٹنگ کہہ لیں تو کئی مذاہب اور دنیا کی ثقافتوں میں یہ عمل کسی نہ کسی شکل میں اور نام کے ساتھ موجود ہے۔ ’’فاسٹنگ‘‘ یا کھانے پینے سے کچھ وقت کے لیے ہاتھ کھینچ لینا تاریخِ انسانی میں شفا یابی یا روحانیت کے حصول کا ذریعہ رہا ہے۔ یونانی فلاسفر بقراط کی بات کریں تو اسے جدید طب کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس زمانے میں بھی جسمانی علاج کا ایک اہم حصّہ فاسٹنگ اور سیب کا سرکہ تھا۔ بقراط ایک جگہ لکھتا ہے، ’’بیماری کے عالم میں کھانا، بیماری بڑھانے کے مترادف ہے۔‘‘ اس کے علاوہ قدیم دور میں بھی طبیب اور فلاسفر اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ مقوّی غذائیں اور معدہ کو خوراک سے بھر لینا، انسان کو چاق چوبند کرتا ہے یا اس سے جسم سست اور انسان پر کاہلی طاری ہونے لگتی ہے۔ بعد کے ادوار میں بھی طبّی ماہرین نے اسے بہت اہمیت دی ہے اور فاسٹنگ کو خاص طور پر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔
دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو، روزہ یا فاسٹنگ اس کی تعلیمات کا ایک لازمی جزو رہا ہے جس کی افادیت پر عہدِ جدید میں تحقیق اور تجربات نے مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔ مسلمان گزشتہ 14 سو سال سے ’’ماہِ صیام‘‘ کو اپنے لیے جسمانی اور روحانی فوائد کا موجب سمجھ کر اس کی برکتیں سمیٹ رہے ہیں جو چند برس قبل جاپانی سائنس دان کی تحقیق سے بھی ثابت ہوتا ہے۔”
Mohammad Naeem Talat
Post your comments