ایک عورت قصاب کی دکان میں بند ہونے سے کچھ دیر پہلے داخل ہوئی اور پوچھا،
“کیا آپ کے پاس ابھی بھی مرغی موجود ہے؟”
قصاب نے اپنا ڈیپ فریزر کھولا، آخری بچی ہوئی مرغی نکالی، اور ترازو پر رکھی۔ اس کا وزن 1.5 کلو تھا۔
عورت نے مرغی اور ترازو کی طرف غور سے دیکھا اور پوچھا،
“کیا آپ کے پاس اس سے بڑی کوئی مرغی ہے؟”
قصاب نے وہی مرغی دوبارہ فریزر میں رکھی، پھر دوبارہ نکالی، لیکن اس بار اس نے چالاکی سے اپنا انگوٹھا ترازو پر رکھ دیا، اور ترازو نے 2 کلو وزن دکھایا۔
عورت خوش ہو کر بولی،
“یہ تو بہت زبردست ہے! براہ کرم، مجھے دونوں مرغیاں دے دیں”۔
ایسی صورتحال میں انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی دیانتداری اور ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے۔
آپ کی چالاکی بے وقوفی بن جاتی ہے، اور آپ کی حکمت احمقانہ لگنے لگتی ہے۔
جب میں یہ لکھ رہا ہوں،
قصاب کا سر ابھی بھی ڈیپ فریزر کے اندر پہلی مرغی تلاش کر رہا ہے.
عقلمند عورت نے قصاب کی چالاکی کو بھانپ لیا تھا۔ مگر بحث کرنے کے بجائے اُس نے ہوشیاری سے اُسی کے جال میں اُسے پھنسا دیا اور کہا کہ “مجھے دونوں مرغیاں دے دیں۔”
بعض اوقات خاموشی سے اپنی عقل کا استعمال کر کے آپ کسی کو بحث کیے بغیر شرمندہ کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف، ہمیشہ سچ بولیں، اور آپ آزاد رہیں گے۔
اچھا نام دولت سے بہتر ہے۔
اپنی سچائی کے ساتھ جئیں، دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو سچ ناپید سا ہو کے رہ گیا ہے۔ بہت کم ایسا دیکھنے میں ملتا ہے کہ کوئی صیح اور سیدھی بات کہے۔ کسی بھی بات کو گھما پھرا کر کرنا تو اب نارمل سی چیز ہے۔ بلکہ اب تو یہ ہے کہ اگر کوئی سیدھی سچی بات بھی کر رہا ہو تو وہ بھی ناقابلِ یقین لگ رہی ہوتی ہے۔
Post your comments